انوارالعلوم (جلد 4) — Page 568
انوار العلوم جلد ۴ ۵۶۸ تقدیر الهی سکتے ہیں۔ یہ تقدیر خاص تھی مگر کس طرح ظاہر ہوئی۔ اس طرح کہ جو اسباب بد تھے ان کو خدا تعالٰی نے نیک کر دیا۔ اور جو سزا دینے کا ارادہ رکھتا تھا اسی نے کہا کہ میرا دل نہیں مانتا کہ مرزا صاحب پر یہ الزام سچائی سے لگایا گیا ہو ۔ (۳) تیسرا طریق تقدیر کے جاری ہونے کا یہ ہے کہ اسباب بد کے بداثر سے اسباب ہی پیدا کر کے اسے بچا دیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کسی کو قتل کرنے کے لئے اس کے گھر آتا ہے اور اس پر تلوار بھی چلاتا ہے۔ اور تلوار اس پر پڑتی بھی ہے مگر اُچٹ جاتی ہے اور ٹھیک طور پر لگتی ہی نہیں یا درمیان میں کوئی اور چیز آجاتی ہے اور وہ اس کے اثر سے محفوظ رہتا ہے۔ اس واقعہ میں اسباب تو بد ہی رہے۔ نیک نہیں ہو گئے۔ مگر ان کے اثر سے انسان بچ گیا۔ (۴) چوتھے تقدیر اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ اسباب بد کے مقابلہ میں سعی نیک کی توفیق مل جاتی ہے ۔ مثلا دشمن حملہ کرتا ہے۔ اس کے حملہ سے بچنے کا ایک تو یہ ذریعہ تھا جو میں پہلے بتا چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی اور طاقتور انسان کو اس کی حفاظت کے لئے کھڑا کر دیتا ہے اور دوسرا طریق یہ ہے کہ خود اسی کو اس کے مقابلہ کی طاقت عطا کر دیتا ہے اور اسی طرح سعی نیک کی توفیق دے کر ان بد اسباب کے اثر سے اسے بچا لیتا ہے جو اس کے خلاف جمع ہو رہے تھے۔ یہ چار طریق ہیں جن میں تقدیر خاص اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ اسباب کے ذریعہ ہی سے تقدیر عام کو ٹلایا جاتا ہے اور اسباب نظر بھی آتے ہیں۔ دوسری صور صورت تقدیر کے ظاہر ہونے کی یہ ہے کہ اس کے تقدیر کے ساتھ مخفی اسباب لئے اسباب پیدا تو کئے جاتے ہیں لیکن وہ بہت مخفی ہوتے ہیں اور جب تک اللہ تعالٰی نہ بتائے یا بہت غور نہ کیا جاوے ان کا پتہ نہیں لگتا اور اس لئے خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بلا اسباب کے ظاہر ہوتی ہے۔ مگر در حقیقت اس کا ظہور اسباب کی مدد سے ہی ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کسی کا دشمن ہو اور اس کو ہر طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہو کسی وقت اسے اتفاقا ایسا موقع مل جائے کہ وہ چاہے تو اسے ہلاک کر دے ۔۔ لیکن باوجود دیرینہ خواہش کے وہ اس وقت اپنے دشمن کو چھوڑ دے ۔ اب بظاہر تو یہ سلوک اس شخص کا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کوئی سبب ظاہر نہیں۔ لیکن ممکن ہے کہ سبب موجود ہو ۔ مثلا یہ کہ ڈر غالب آگیا ہو کہ کوئی مجھے دیکھتا نہ ہو۔ یا یہ کہ اس کے رشتہ داروں کو شک گزر گیا تو وہ مجھ سے بدلہ لیں گے یا اور کوئی ایسا ہی سبب ہو جو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر پیدا کر دیا ہو ۔