انوارالعلوم (جلد 4) — Page 564
انوار العلوم جلد ۴ ۵۶۴ تقدیر الهی بعدا قدیر خاص کی تفصیل کی تفصیل بیان کرتا ہوں لیکن چونکہ تقدیر عام خاص قواعد کے کی تفصیل ماتحت ہوتی ہے اس لئے اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں تقدیر خاص کی ہی تفصیل بیان کرنی کافی ہوگی۔ تقدیر خاص دو قسم کی ہوتی ہے۔ بعض اصولی قواعد کے ماتحت خدا تعالیٰ کی طرف سے احکام جاری ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ ایک قاعدہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر چھوڑا ہے کہ نبی اور نبی کی جماعت اپنے دشمنوں پر غالب آئے گی۔ چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ كَتَبَ اللَّهُ لَا غَلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي (المجادلة: ۲۲) اللہ تعالیٰ نے فرض کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول دشمنوں پر غالب آئیں گے ۔ اور فرماتا ہے۔ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (الروم: ۴۸) یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم مؤمنوں کی مدد کریں۔ اب جب کہ انبیاء اور ان کی جماعتوں کو اپنے دشمنوں پر فتح ہوتی ہے تو اس کو عام شرعی تقدیر کے ماتحت نہیں لا سکتے کیونکہ یہ خاص حکم ہے جو ایک خاص اصل کے ماتحت جاری ہوتا ہے اور بسا اوقات امور طبیعیہ اس کے مخالف پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ دوم وہ تقدیر خاص کہ وہ خاص خاص حالات اور خاص اشخاص کے لئے جاری ہوتی ہے اور کسی اصولی قاعدہ کے ماتحت نہیں ہوتی۔ اس کی مثال وہ وعدہ ہے جو رسول کریم اسے فتح مکہ کے متعلق کیا گیا۔ رسول کریم ﷺ کے لئے یہ بات تو عام قانون کی رو سے ہی مقدر تھی کہ آپ دشمنوں پر غالب ہوں مگر خدا تعالیٰ نے یہ قانون نہیں بنایا کہ جہاں کوئی نبی پیدا ہو وہاں وہ بادشاہ بھی ہو جائے مگر رسول کریم کے لئے یہ خاص حکم جاری کیا گیا کہ آپ اول مکہ سے ہجرت کریں اور پھر اس کو فتح کر کے وہاں کے بادشاہ بنیں۔ یہ خاص رسول کریم ﷺ کے لئے حکم تھا اور ایسا ر ایسا حکم تھا کہ جب یہ جاری ہو گیا تو خواہ دنیا کچھ کرتی اور ساری دنیا آپ کو مکہ کا بادشاہ بننے سے روکنا چاہتی نہ روک سکتی۔ ناران کہتے ہیں کہ چوری خدا کراتا ہے۔ ہم کہتے ہیں چوری تو ایسا فعل ہے کہ اس سے لوگ روک بھی سکتے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ جو کچھ کراتا ہے اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔ رسول کریم ﷺ کو مکہ میں وحی ہوئی۔