انوارالعلوم (جلد 4) — Page 550
انوار العلوم جلد ۴ لم ۵۵۰ تقدیر الهی علیحدہ کیوں ہیں؟ قدر قدیر سے تعلق رکھتا ہے یعنی قدرت والا اور علم علیم سے تعلق رکھتا ہے یعنی جاننے والا۔ لیکن ان لوگوں نے اس بات کو سمجھا نہیں۔ وہ کہتے ہیں زید جو چوری کرنے چلا ہے۔ خدا کو یہ پتہ تھا یا نہیں کہ زید چوری کرنے جائے گا۔ اگر پتہ تھا اور زید چوری کرنے نہ جائے تو خدا کا علم جھوٹا ہو جائے گا ۔ اس لئے معلوم ہوا کہ زید چوری کرنے کے لئے جانے پر مجبور تھا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ خدا اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو خدا کا علم جھوٹا نکلتا ہے۔ اس ڈھنگ سے یہ لوگ عوام پر قبضہ پالیتے ہیں اور ان سے منوا لیتے ہیں کہ ہر ایک فعل خدا تعالیٰ ہی کرواتا ہے۔ حالانکہ نادان بات کو الٹے طور پر لے جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں یہ غلط ہے کہ چونکہ خدا کے علم میں تھا کہ زید چوری کرے گا اس لئے وہ چوری کو چھوڑ نہیں سکتا۔ بلکہ بات یہ ہے کہ چونکہ زید نے چوری نہیں چھوڑنی تھی اس لئے خدا کو علم تھا کہ وہ چوری کرے گا۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک ایسا آدمی ہمارے پاس آتا ہے جس کی باتوں سے ہمیں پتہ لگ جاتا ہے کہ اس نے فلاں جگہ ڈاکہ مارنا ہے۔ اب کیا اس ہمارے جان لینے سے کوئی عظمند یہ کہے گا کہ چونکہ ہم نے جان لیا تھا کہ وہ فلاں جگہ ڈاکہ مارے گا اس لئے وہ ڈاکہ مارنے پر مجبور تھا اور ہم نے اس سے ڈاکہ مردایا ہے ہرگز نہیں۔ یہی حال خدا تعالٰی کے علیم ہونے کا ہے۔ زید نے آج جو کام کرنا تھا بغیر خدا تعالیٰ کے مجبور کرنے کے کرنا تھا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ علیم ہے اور ہر بات کا اسے علم ہے اس لئے اس کے متعلق اسے علم تھا کہ زید ایسا کرے گا۔ اسی طرح زید نے چونکہ چوری نہیں چھوڑنی تھی بلکہ کرنی تھی اس لئے خدا تعالیٰ کو علم تھا کہ اس نے چوری کرنی ہے اور جس نے چھوڑنی تھی اس کے متعلق اسے یہ علم ہے کہ وہ چوری چھوڑ دے گا۔ تو خدا تعالیٰ کا علم کسی فعل کے کرنے کا باعث نہیں ہے ہے بلکہ وہ فعل خدا تعالیٰ کے علم کا باعث ہے۔ زمیندار بھ ار بھائی شاید اس کو نہ سمجھے ہوں اس لئے پھر سناتا ۔ ہوں اس لئے پھر سناتا ہوں۔ بعض لوگ جو یہ مزید توضیح کہتے ہیں کہ ہر ای فعل خدا کراتا ہے وہ اس کے ثبوت میں کہتے ہیں کہ خدا کو یہ یہ پتہ تھا یا نہیں کہ عبد اللہ فلاں دن چوری کرے گا یا ڈاکہ مارے گا۔ اگر دہریوں کا خیال درست مان لیا جائے کہ خدا نہیں ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ عبداللہ جو کچھ کرے گا اپنی مرضی اور اپنے خیال سے کرے گا۔ لیکن چونکہ خدا ہے اس لئے اس کو پتہ ہے کہ عبداللہ فلاں دن یہ کام کرے گا۔ اگر وہ اس دن وہ کام نہ کرے تو خدا کا علم غلط ٹھرتا ہے۔ پس خدا اسے مجبور کرتا