انوارالعلوم (جلد 4) — Page 508
انوار العلوم جلد ۴ بھی کچھ ۵۰۸ خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء تم میں عجب پایا جاتا ہے۔ اور معلوم ہوا کہ تم خدا خدا تعالیٰ کے شریک بنتے ہو۔ اور اپنے آ۔ آپ کو کچھ سمجھتے ہو۔ ۔ مگر یاد رکھو جب تک تم علی الاعلان یہ نہ کہو کہ ہم خدا کے غلام ہیں۔ اس وقت تک تم خدا کے عبد نہیں بن سکتے۔ اور اس کا یہی طریق ہے کہ مسجدوں میں آکر اپنی غلامی کا اقرار کرو۔ اور اپنے سر کو خدا تعالی کے حضور جھکاؤ ۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے۔ اور اب پھر دلاتا ہوں کہ تم لوگ جب تک اس طرف توجہ نہ کرو گے اس وقت تک تم خدا کے عہد کہلانے کے مستحق نہیں ہو گے ۔ مسجدوں کو چھوڑ کر گھروں میں تمہارا نماز پڑھنا تمہارے عجب کی علامت کو ظاہر کرتا ہے الا ماشاء اللہ ۔ ہاں بیماری ہو یا کوئی اور وجہ تو اور بات ہے۔ ورنہ تمہارا اس طرح کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تم اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا شریک سمجھتے ہو۔ اور پھر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تمہارے مجب کی یہ ٹانگ ابھی ٹوٹی نہیں۔ لیکن جب مسجد میں آکر تم خدا تعالی کے آگے اپنا سر جھکاتے ہو۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ تم نے عجب کی اس ٹانگ کو بھی توڑ دیا ہے۔ عاجز تھے اور دیکھو مساجد میں خدا تعالیٰ نے کیا طریق قرار دیا ہے۔ ایک بادشاہ ہے مساجد میں مساوات اور ایک غلام۔ لیکن غلام خدا کے اس گھر میں بادشاہ کے زانوں بہ زانوں بیٹھ سکتا ہے۔ مکہ اور قسطنطنیہ میں ایسا ہوا ہے کہ کوئی بادشاہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا ہے اور ایک ادنی آدمی اس کے پہلو بہ پہلو کھڑا ہو گیا۔ پولیس اور فوج وغیرہ سب: کوئی اس کو ہٹا نہیں سکتا تھا۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہ کہ جن کے دلوں میں تکبر اور عجب تھا انہوں نے مسجدوں میں آنا چھوڑ دیا۔ مسجد چونکہ خدا کا گھر ہے جس کے سب ادنی اور اعلیٰ غلام ہیں۔ اس لئے اس میں دنیوی حیثیت سے ادنی درجہ کے لوگوں نے بادشاہوں کو شکست دے دی۔ بعضوں نے مسجد کے ساتھ الگ کو ٹھریاں بنوائیں ۔ لیکن وہ مسجد نہیں کہلا سکتیں۔ کیونکہ مسجد میں آنے سے روکنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ سوائے اس صورت کے کہ کوئی شخص مسجد کو ذکر اللہ کے سوا کسی اور غرض یا فتنہ کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہو۔ غرض نماز با جماعت بہت بڑا فرض ہے۔ اور اتنا بڑا فرض باجماعت نماز پڑھنے کی تاکید ہے کہ اس کو پورا کے بغیر کوئی انسان خدا تعالی کا عبد نہیں بن سکتا۔ پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ سب سے بڑا فرض ہے جس کو ادا کرنا آپ لوگوں کا کام ہے۔ اپنا نقصان کر کے تکلیف اٹھا کر جہاں تک بھی ہو سکے مسجدوں میں آؤ