انوارالعلوم (جلد 4) — Page 494
انوار العلوم - جلد ۴ ۴۹۴ خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء آج میں عام مضمون بیان کرتا ہوں جو نصائح اور تبلیغ کے انسان کو پیدا کرنے کی غرض متعلق ہے۔ میں نے شروع تقریر میں کچھ آیتیں پڑھی تھیں جو یہ ہیں۔ وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ، وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ه مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَ مَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ، فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِثْلَ ذَنُوْبِ أَصْحُبِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ (الدريت : ٠٥٦ ت : ۵۶ تا ۶) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایک خاص بات اور ایک بہت بڑے فرض کی طرف متوجہ کیا ہے۔ رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے تو نصیحت کر مسلمانوں کو اور انہیں کھول کر بتادے۔ کیونکہ نصیحت مؤمنوں کو فائدہ دیتی ہے۔ وہ کیا نصیحت اور کیا وعظ ہے؟ یہ کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُونِ - کہ میں نے جن وانس کو اس لئے نہیں پیدا کیا کہ وہ دنیا میں آئیں اور کھا پی کر چلے جائیں۔ اور نہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ میں ان کا محتاج ہوں اور اگر انسان نہ ہوتا تو میری خدائی نہ ثابت ہو سکتی۔ میں قادر اور مالک نہ رہتا یا میں کمزور تھا اور مدد کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے۔ یا میری شان و شوکت میں کچھ کمی تھی اس کو پورا کرنے کے لئے انسان کو بنایا ہے یا اپنے علم کی ترقی کے لئے بنایا ہے ۔ مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ ان کے پیدا کرنے سے میرا یہ منشاء نہیں ہے کہ وہ مجھے رزق دیں گے اور کھانا کھلائیں گے میری اگر کوئی غرض ہے ۔ تو یہ ہے کہ لِيَعْبُدُونِ ۔ بندے خدا کے عابد ہو جائیں میرا فضل چاہتا تھا کہ میں اس کو پوری شان سے ظاہر کروں۔ پس میں نے اپنے فضل کے اظہار کے لئے انسان کو منتخب کیا اور اپنے احسان کے لئے اسے چن لیا۔ میں نے چاہا کہ انسان میرے عبد بنیں ۔ پس وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔ میں نے نہیں پیدا کیا جن اور انس کو مگر اس لئے کہ میری عبادت کریں۔ میں نے ان سے کچھ لینا نہیں۔ ان سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کرنا۔ میری شان میں ان سے کوئی زیادتی نہیں ہو سکتی۔ میری حکومت میں کوئی اضافہ نہیں ہو جاتا۔ میری غرض ان کے پیدا کرنے سے صرف یہی ہے کہ میرے عبد اور فرمانبردار بن جائیں۔ اس کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عبد کے معنی عام غلامی کے نہیں بلکہ خدا کا عہد بننا بہت