انوارالعلوم (جلد 4) — Page 491
انوار العلوم - جلد ۴ ۲۹۱ خطاب جلسه سالانه ۲۷ دسمبر ۶۱۹۱۹ میں یہ مانتا ہوں کہ ہماری جماعت کے غیر مبالعین کو کو جماعت احمدیہ سے کیا نسبت؟ سارے لوگ ایم اے اور بی اے رم نہیں۔ لیکن رسول کریم " اور " کریم اور حضرت ابوبکر اور دوسرے صحابی بھی ایم۔ اے اور بی۔ اے نہ تھے۔ گو اگر اسی بات میں وہ ہماری جماعت سے اپنے ساتھیوں کا مقابلہ کرے تو اسے معلوم ہو جائے کہ خدا کے فضل سے ہم میں ان سے بہت زیادہ ایم ۔ اے اور بی۔اے ہیں۔ پھر اگر سیانے اور عقلمند کے معنی ان کے نزدیک مال دار کے ہیں تو ان کے ساتھیوں سے بہت زیادہ مالدار ہم اپنی جماعت میں رکھا سکتے ہیں۔ بڑے سے بڑا چندہ ایک دفعہ ان میں سے ایک آدمی نے ہزار روپیہ دیا تھا اور اسی پر بڑی خوشی کا اظہار کیا گیا تھا۔ مگر ہمیں ایک ہی آدمی نے سرہ ہزار روپیه چنده یک مشت دیا۔ پھر عقل اور علم کا معیار علم عربی جانتا ہے۔ مگر میں جانتا ہوں خواجہ صاحب اور عربی دانی خواجہ صاحب یہ معیار کبھی قائم نہیں کریں گے۔ کیونکہ علم عربی سے جہالت خواجہ صاحب سے زیادہ اور کسی میں کم ہی پائی جائے گی۔ انہوں نے ایک پشاوری مولوی سے مدد لے کر اور حضرت صاحب کی ایک کتاب چرا کر ایک کتاب لکھ دی ہے اور سمجھ لیا ہے کہ میں بڑا عربی دان ہوں۔ مگر اس کا فیصلہ نہایت آسانی کے ساتھ اس طرح ہو سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب بنائے جائیں حج ۔ اور قرآن کریم کا کوئی ایک رکوع خواجہ صاحب کے سامنے پیش کر دیا جارے اور وہ اس کا لفظی ترجمہ کر دیں۔ اور فیصلہ مولوی محمد علی صاحب قسم کھا کر دیں اور لکھ دیں کہ خواجہ صاحب کا کیا ہوا ترجمہ صحیح ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے صرف لفظی ترجمہ ہے۔ مگر میں جانتا ہوں خواجہ صاحب اس سوال کو کبھی اٹھنے نہیں دیں گے کیونکہ عربی دانی ان کے نزدیک جہالت ہے اور وہ علماء کو قل اعوذے کہا کرتے ہیں۔ خیر خواجہ بات تو مگر غیر مبالکین ہر طرح مقابلہ کرلیں یہ خان صاحب ہماری تو نہیں مارنے کے کرانے ساتھیوں میں سے مولوی پیش کر دیں۔ مقابلہ میں ہم دو گنے لگتے بلکہ کئی گنا زیادہ دکھا دیں گے ۔ پھر اگر علم کا معیار قانون دان ہوتا ہے تو یہی سہی ۔ اگر ڈاکٹر ہونا ہے تو یہی سہی ۔ غرض کوئی معیار وہ مقرر کر دیں۔ اس پر مقابلہ کر کے ان کو دکھا دیا جائے گا کہ ہمارے مقابلہ میں ان کو کیا نسبت ہے ؟ مگر باوجود اس کے وہ ہماری جماعت کو کہتے آئے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ یہ جاہلوں کی جماعت ہے اور ان میں اہل