انوارالعلوم (جلد 4) — Page 22
انوار العلوم جلد ۴ ۲۲ جماعت قادیان کو نصائح دی پھر ہر مقام پر ایک امیر چھوڑنے کا حکم تھا اس میں بھی کوتاہیاں کیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ جب دارالخلافہ سے ادھر اُدھر ہوا تو فتنہ پردازوں نے کوئی نہ کوئی فساد کھڑا کر دیا۔ حضرت خلیفہ اول کو بھی اس کا بہت خیال رہتا تھا۔ چنانچہ جب آپ ملتان تشریف لے گئے تو پیچھے ہر چند کہ میری عمر چھوٹی تھی مجھے ہی چھوڑ گئے۔ پس مسجد مبارک کی امامت کے لئے جس کے متعلق خاص الہامات ہیں اور جس میں حضرت صاحب نماز پڑھا کرتے تھے ، جمعہ کی نماز کے لئے قاضی سید امیر حسین صاحب کو مقرر کرتا ہوں اور باقی امور جو مقامی حیثیت میں پیش آئیں ان کے لئے مولوی شیر علی صاحب کو مقرر کرتا ہوں۔ ان سے مشورہ لیا جائے ان کے ماتحت کام کرد۔ میں دیکھتا ہوں کہ انجمنوں کے طریق میں فساد انجمنوں کے طریق میں اصلاح کا ارادہ پڑتے ہیں اس لئے میرا ارادہ ہے کہ اس انتظام کو بدل کر اگر اللہ چاہے تو امیر مقرر کر دیئے جائیں اور وہ اپنی اپنی جماعتوں کے مشورہ سے خلیفہ وقت کے ماتحت کام کیا کریں۔ لیکن زمانہ بدلا ہوا ہے۔ اس لئے آہستہ آہستہ تبدل و تغیر بہتر ہے۔ میں تو اس سرکار کا خادم ہوں۔ رسول کریم ال نے حضرت عائشہ سے فرمایا تھا کہ اگر تیری قوم کے ابتلاء میں آجانے کا اندیشہ نہ ہو تو میں کعبہ کو از سر نو تعمیر کرا کے اس میں وہ حصہ شامل کر دوں جو پہلے تھا۔ بخارى كتاب التمنّى باب ما يجوز من الله غرض میرے ذہن میں ایک نظام ہے ۔ جب اللہ توفیق دے گا اور جماعت کو اس کے لئے تیار کرے گا ہو جائے گا۔ ہوں کہ جماعت قادیان کو اطاعت امیر کی نصیحت میں یہاں کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں خلافت اور امارت میں فرق ہے۔ خلیفہ کے ساتھ مذہبی تعلقات بیعت بھی ہوتے ہیں اس لئے خلفاء کی تو مان لیتے ہیں اور اپنے امیروں کی نہیں مانتے۔ یا اس کے لئے شرح صدر نہیں پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ میں تاکید کرتا ہوں اور رسول کریم کی پیروی میں کہتا ہوں جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ دوسرے میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں جماعت قادیان دو سروں کے لئے نمونہ بنے کہ آپس میں محبت بڑھاؤ اور اپنے کو دوسروں کے لئے نمونہ بناؤ جیسے تمہارے درجے بڑے ہیں ایسی ہی تمہاری ذمہ داریاں بھی