انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 466

انوار العلوم جلد ۴ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے کو قبول کرے اور خود اس کا استاد نہ بنے کیونکہ ہر ایک شخص اپنے پیشہ کو خوب سمجھتا ہے۔ اس طرح مذاہب کا حال ہے۔ عقل چاہتی ہے کہ جب تک کسی مذہب کی صداقت ثابت نہ ہو اس کو قبول نہ کیا جائے ۔ لیکن یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ سچا مذہب دیکھ کر اور معلوم کر کے پھر اس کے حکموں پر جرح کرے اور اپنے منشاء کے مطابق اس کو بنانا چاہے۔ خدا تعالی ہی بتا سکتا ہے کہ وہ کسی طرح راضی ہو سکتا ہے۔ ہم اپنے ایک مہمان کو بغیر اس کے بتائے ہوئے کہ وہ کس طرح راضی ہو سکتا ہے، راضی نہیں کر سکتے۔ پھر خدا تعالیٰ کو بغیر اس کے بتائے کے اپنے من گھڑت طریقوں پر قدم مار کر کسی طرح راضی کر سکتے ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ اس سے پوچھیں کہ خدایا تیری رضامندی کسی مذہب میں ہے اور خدا کا کام ہے کہ وہ بتائے کہ کونسا مذہب اس کا پسندیدہ اور اس کے منشاء کے مطابق ہے اور کسی مذہب پر عمل کرکے ہم اس کی رضامندی حاصل کر سکتے ہیں۔ پس اسلام نے عقل کی بنیاد کو قائم کیا ہے ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ڈاکٹر کے انتخاب کے وقت عقل سے کام لیں لیکن جب ہم ایک ڈاکٹر کا انتخاب کرلیں تو یہ ہمارا فرض نہیں کہ ہم اس کے بتائے ہوئے نسخہ پر جرح کریں۔ پہلی کتابوں کا یہ طریق تھا کہ وہ کہتی تھیں کہ ہم کہتے ہیں کہ تم مان لو لیکن اسلام کی یہ تعلیم نہیں۔ دیر کی بات ہے کہ ایک پادری مجھے ایک مقام پر ملا تیں سال سے ہندو مسلمانوں میں تبلیغ کر رہا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس سے گفتگو کروں۔ اس ملاقات کی۔ وہ چونکہ بازار میں ملا تھا اس لئے میں نے ا نے اس سے مکان پر ملنے کے لئے وقت مانگا۔ جب میں دوسرے دن اس سے ملنے کے لئے گیا تو میں نے پوچھا کہ آپ کے مذہب کی بنیاد کس مسئلہ پر ہے۔ اس نے کہا تَوْحِيدُ فِی التَّثْلِيثِ اور تَثْلِیثُ فِي التَّوْحِيدِ پر۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ ذرا مجھے یہ سمجھائیے تو سہی۔ لمبی گفتگو کے بعد اس نے کہا کہ میں نے اس مسئلہ کی اچھی طرح سنڈی نہیں کی اور میں اس کو اس لئے مانتا ہوں کہ بائبل میں لکھا ہے۔ میں نے کہا کہ اول تو درست نہیں کہ بائبل میں اس کی تعلیم ہے۔ دوسرے اگر ہو بھی تو ہم کیسے اس کو تسلیم کر سکتے ہیں کیونکہ بائبل کا ماننا تو اس مسئلہ کے ماننے پر موقوف ہے۔ پھر اس نے کہا کہ کفارہ کے مسئلہ کی میں نے خوب تیاری کی ہے اس میں گفتگو کرلیں میں نے کہا بہت اچھا۔ جب اس میں گفتگو شروع ہوئی تو آخر میں اس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ میرے ماں باپ کا یہ مذہب تھا اور میں عیسائی ہوں۔ اس لئے میں اس کو مانتا ہوں ورنہ میرے پاس اس کی کوئی دلیل وہ سے نہیں۔