انوارالعلوم (جلد 4) — Page 428
انوار العلوم جلد ۴ ۲۲۸ خطاب جلسہ سالانہ کے امارچ ۱۹۱۹ء لیکچروں کے ذریعہ تبلیغ دوسری بات یہ ہے کہ ہر جگہ انجمنیں قائم کرو اور پیچروں کی مشق کرو اور دوسرے لوگوں کو اپنے لیکچروں : وں میں شامل کرو۔ یہ ہے کہ احمد لوگوں کو قادیان میں لانے کی کوشش ہو کہ سالانہ جلسہ پر یا دوسرے وقتوں میں غیر احمدیوں کو یہاں لائے۔ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ جو یہاں آجاتا ہے وہ خالی واپس نہیں جاتا۔ کیوں؟ جو شیر کی غار میں آجائے وہ پھر واپس نہیں جاسکتا۔ سوائے اس کے جسے خدا مردار قرار دے کر پرے پھینک دے۔ کیونکہ شیر مردار نہیں کھایا کرتا۔ ایسا انسان کو تمہیں زندہ نظر آئے لیکن خدا کے نزدیک مردہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ پھینک دیتا ہے عام لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ مرزا صاحب کو جارو آتا تھا۔ اور بعض لوگ تو کہتے تھے کہ ایک ایسا حلوا پکا کر کھلا دیتے تھے کہ جسکے کھانے کے بعد انسان ان کی ہر ایک بات مان لیتا تھا۔ چنانچہ ایک مولوی کی نسبت معلوم ہوا کہ وہ مختلف مقامات پر جا کر یہی وعظ کرتا تھا۔ اور اس نے اپنے ساتھ ایک آدمی رکھا ہوا تھا۔ جو کھڑا ہو کر کہہ دیتا تھا کہ جو کچھ مولوی صاحب نے کہا ہے بالکل سچ ہے۔ اور یہ بھی قصہ سناتا تھا کہ ہم چند آدمی مل کر قادیان گئے تھے جہاں ہمیں حلوا دیا گیا۔ اوروں نے تو کھا لیا لیکن میں نے نہ کھایا۔ اس کے بعد رفتن منگوائی گئی۔ جس میں ہم کو بٹھا کر لے گئے ۔ باہر جا کر مرزا صاحب نے مجھے مخاطب کر کے کہا۔ تم مجھے رسول مانو میں نے کہا میں نہیں مانتا۔ اس پر انہوں نے مولوی حکیم نور الدین صاحب کی طرف دیکھ کر کہا کیا اسے حلوا نہیں دیا تھا۔ وہ بیچارے ڈر گئے۔ اور کہنے لگے میں نے تو اسے اپنے ہاتھ سے حلوا دیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے اس نے کھایا نہیں اس کے بعد انہوں نے مجھے فٹن میں سے اتار دیا اور کہا یہاں سے اس وقت چلے جاؤ ورنہ مار ڈالے جاؤ گے ۔ تو مخالفین ایک جھوٹے حلوے کا کھانا مشہور کرتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں ہاں واقع میں حضرت مرزا صاحب حلوا کھلایا کرتے تھے۔ اور ایسا حلوا کھلاتے تھے کہ پھر کسی اور حلوے کا مزہ آتا ہی نہیں تھا۔ پھر کہتے ہیں آپ ساحر تھے ہم کہتے ہیں ہاں ساحر تھے اور ایسا سحر کرتے تھے کہ باطل بالکل بھاگ جاتا تھا۔ ساحروں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انسانوں کو بندر بنا دیتے ہیں۔ لیکن حضرت مرزا صاحب ایسے ساحر تھے کہ ان لوگوں کو جو یہودی صفت ہو کر بندروں سے مشابہ ہو چکے تھے انسان بنا دیتے تھے ۔ پس ان لوگوں کو یہاں لانے کی کوشش کرو۔ تاکہ انہیں ہدایت نصیب ہو۔ یہ صورت تبلیغ کے لئے بہت مفید ہے۔