انوارالعلوم (جلد 4) — Page 424
انوار العلوم جلد ۴ ۳۲۴ خطاب جلسہ سالانہ کے امارچ ۱۹۱۹ء ہمارے تم پر حقوق تھے۔ ان حقوق کو تم نے کس طرح ادا کیا ہے۔ پس کابل سید عبد اللطیف صاحب شہید کے خون کا بدلا مانگ رہا ہے۔ ایران اپنے فارسی النسل انسان کے احسان کا معاوضہ طلب کر رہا ہے۔ اور عرب کا دعوئی سب سے وزنی ہے۔ جو کہتا ہے کہ دین کی بنیاد میرے اندر پیدا ہونے والے انسان نے ڈالی ہے پھر کیا وجہ ہے جب اس کی قوم اور اس کے وطن کے لوگ دین کے پیاسے ہیں تو تم نے ان کی خبر تک نہیں لی۔ پھر وہ امریکہ جس میں حضرت مسیح موعود پانچ سال رہے وہ بلا رہا ہے۔ اور بخارا جس میں اب چاہے ہیں وہ بلا رہا ہے۔ فی الحال یہ مشن ہیں جنہیں فورا قائم کرنے کی ضرورت ہے اور ان کے قیام کے لئے ابھی سے کوشش شروع ہو جانی ضروری ہے۔ امریکہ و بخارا، ایران ، کابل اور عرب یہ پانچ مشن بنتے ہیں۔ اور جو ان سے پہلے مشن قائم ہیں وہ الگ ہیں۔ اور ان کے لئے بھی مبلغ بھیجنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً ایک مشن جو نائیجریا میں ہے۔ وہاں کے احمدی بار بار لکھتے ہیں کہ ہم تو بغیر تمہاری کوشش کے احمدی بن گئے ہیں تم نے ہمارے لئے کوئی کوشش نہ کی تھی۔ لیکن اب کوئی مبلغ بھیجو جو ہمیں تعلیم دے تا کہ ہم دوسروں کو احمدی بنا سکیں ۔ ان لوگوں نے کبھی کسی احمدی کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ اتفاقاً کہیں سے قادیان کا نام سن لیا اور یہاں خط لکھ دیا۔ اس کا جواب جب یہاں سے گیا تو احمد ی ہو گئے اب وہاں مبلغ بھیجنے کی ضرورت ہے۔ غرض یہ نئے ملک ہیں جو ہمیں تبلیغ کے لئے بلا رہے ہیں۔ ان میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں کوشش کرنی پڑے گی۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ انگلستان میں مشن قائم کرنے کی وجہ سے جماعت پر بہت بوجھ پڑ گیا ہے۔ میں کہتا ہوں ٹھیک ہے وہ بوجھ ہے لیکن یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ خدا سے عشق کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ کسی نے کہا ہے ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ہے۔ تم لوگوں نے خدا سے محبت لگائی ہے۔ پس ابھی یہ کیا بوجھ ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ دیکھو خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - (العنکبوت : ۳) کیا یہ ہو سکتا ہے کہ مسلمان صرف یہ کہکر چھوٹ جا جائیں کہ ہم ایمان لے آئے اور انکا امتحان نہ لیا جائے۔ ہر گز نہیں۔ پس تم کو بھی اسی طرح بھٹیوں میں ڈالا جائیگا۔ اسی طرح تمہارے مالوں ، جانوں اور رشتہ داروں کو قربان کرنا پڑے گا۔ جس طرح تم سے پہلے عرب کے بہادروں نے قربان کیا۔ اس وقت صرف سید عبد اللطیف صاحب کی شہادت کافی