انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 408

انوار العلوم جلد ۴ ل٧٠ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ء اور حکم دیں کہ ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو یہ نہیں ہو سکتا۔ غیر مبائعین کی اس بات کو تسلیم کر لینے کے تو یہ معنی ہوئے کہ ہماری خلافت اس آیت کے ماتحت نہیں۔ کیونکہ اگر اس کے ماتحت ، و تو پھر اس کے منکروں کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم دینے کے کیا معنی۔ ایسی صلح ہم کبھی نہیں کر سکتے۔ ہم نے مذہب کے معاملہ میں ساری دنیا کی پرواہ نہیں کی۔ تو ان چند لوگوں کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ہمارا آج تک کیا بگاڑا ہے کہ آئندہ بگاڑ لینگے۔ ہم نے مجبوری کے وقت مثلاً ان کی مسجد میں کوئی شخص بیٹھا ہو۔ اور نماز کھڑی ہو جاوے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو حرام نہیں کہتے۔ لیکن ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم دینا بالکل مختلف ہے مجبوری سے کسی کام کا کرنا اور معنی رکھتا ہے۔ اور بلا مجبوری اس کا کرنا اور معنی رکھتا ہے۔ تیسری بات وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ایک فریق کے آدمی دوسرے فریق کو چندہ دیں۔ کہتے ہیں کسی عورت سے جو غریب تھی پوچھا گیا کہ فلاں شادی پر تو نے کیا نیو تا دیا ہے۔ اس نے کہا ایک روپیہ دیا تھا۔ اور اس کی بھا وجہ جو امیر تھی اس نے میں روپے ۔ وہ کہنے لگی میں اور میری بھاوجہ نے اکیس روپے دیئے ہیں۔ اب غیر مبالعین ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔ خدا کے فضل سے ہماری جماعت تو کئی لاکھ کی ہے۔ اور وہ چند سو سے زیادہ نہیں اس لینے دینے کا یہ مطلب ہوا کہ وہ کئی ہزار روپیہ ہمارے آدمیوں سے لے جا جائیں۔ اور سو سو ڈیڑھ سو روپیہ ہم ان سے لے لیں۔ کون عقل مند ہے جو ایسی شرط منظور کر سکتا ہے۔ چوتھی بات وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کے جلسوں میں شامل ہوا کریں یہ بھی ایسی ہی بات ہے۔ جس میں انہیں کا فائدہ ہے۔ مثلاً امرتسر میں ہمارا جلسہ ہو تو وہاں ان کے چار پانچ آدمی ہیں وہ آجائیں گے۔ لیکن اگر ہم نے حکم دیا تو ان کے جلسہ پر نٹو سے بھی زیادہ ہمارے آدمی چلے جائیں گے۔ اور اس طرح انہیں یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ ہمارا جلسہ بڑا کامیاب ہوا۔ پس گو ہم نے کسی کو اس سے منع نہیں کیا کہ وہ ان کے جلسوں پر جاوے۔ سوائے اس کے کہ اس کا جانا اس کے لئے یا دوسروں کے لئے فتنہ کا موجب ہو۔ مگر ہم اس طرح کا حکم کس طرح دے سکتے ہیں اس میں تو صریح انہی کا فائدہ ہے نہ ہمارا۔ پانچویں بات وہ یہ کہتے ہیں کہ اختلافی مسائل پر صرف میں اور مولوی محمد علی صاحب لکھیں اور کوئی نہ لکھے ۔ اس میں انہیں یہ بات مد نظر ہے کہ مولوی محمد علی صاحب تو ہوئے ایک انجمن