انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 401

انوار العلوم جلد ۴ ۲۰۱ خطاب جلسه سالانه ۱۷ مارچ ۱۹۱۹ ء اور اہم کام ہے جس کے لئے الگ صیغہ بنایا گیا ہے۔ صیغه تعلیم و تربیت تیرا صیغہ علیم و تربیت ہے جس کا فرض اپنی جماعت کے لوگوں کو دینی اور دنیوی تعلیم دیتا ہے تعلیم ایک ایسی ضروری چیز ہے کہ جس کے بغیر کوئی جماعت محفوظ اور زندہ نہیں رہ سکتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا اتنا خیال تھا کہ آپ نے کچھ لوگوں کو اس شرط پر رہا کر دیا تھا کہ مسلمانوں کے بچوں کو ں کو تعلیم دیں۔ چونکہ ابتداء میں صحابہ میں سے زیادہ تعداد پڑھے لکھے لوگوں کی نہ تھی۔ اور جو لوگ تعلیم یافتہ تھے وہ اور ضروری کاموں میں لگے ہوئے تھے۔ اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی ایک ایسے لوگوں کو جو لڑائی میں گرفتار ہو کر آئے تھے۔ اس شرط پر رہا کر دیا کہ مسلمانوں کے بچوں کو تعلیم دیا کریں۔ تو تعلیم ایک نہایت ضروری چیز ہے لیکن اس وقت تک ہماری جماعت کے لئے اس کا خاطر خواہ انتظام نہ تھا۔ اسی طرح تربیت بھی بہت ضروری شے ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر بھی بڑے بڑے کاموں میں نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ اور وہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے جو ہونے چاہئیں۔ نمازی کو لے لو۔ بعض کلمات کا دہرانا ہی ضروری نہیں بلکہ بعض اور ہدایات کا بھی بجالانا ضروری ہے۔ مثلاً صف بندی کا حکم ہے۔ یہ حکم ایسا اہم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صف سیدھی کرو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ اور تم میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ (بخاری کتاب الأذان باب تسوية الصفوف عند الاقامة وبعدها ) لیکن مسلمان باوجود خواہش کے عام طور پر صف سیدھی نہیں رکھ سکتے ۔ مگر فوجی جنہیں معمولی سی تنخواہ ملتی ہے وہ ایسی سیدھی قطار باندھتے ہیں کہ بال بھر بھی فرق نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ ان کو اس امر کی مشق کرائی گئی ہے جو انہیں حاصل نہیں۔ اسی طرح جو لوگ بڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں وہ تشہد میں ٹھیک بیٹھ نہیں سکتے۔ وجہ یہ کہ شروع سے ان کی تربیت نہیں ہوتی۔ تو تربیت نہایت ضروری چیز ہے۔ ہم میں وہ لوگ جو نئے داخل ہوتے ہیں ان کی تربیت تو ذرا مشکل کام ہے۔ کیونکہ وہ اپنی ابتدائی عمر کا بہت ساحصہ جس میں تربیت کی جاسکتی ہے باہر گزار کر آتے ہیں۔ لیکن آئندہ اولاد کا خیال رکھنا ایک حد تک آسان امر ہے اور ضروری ہے۔ اس لئے یہ صیغہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ذمہ یہ کام ہو گا کہ جماعت کے لڑکوں کی فہرستیں تیار کرائے اور معلوم کرے کہ مثلاً زید کے تین لڑکے ہیں ان کی تعلیم کا کوئی انتظام ہے یا نہیں اور وہ دینی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں یا نہیں۔ اگر معلوم ہو کہ نہیں تو اسے لکھا اور سمجھایا