انوارالعلوم (جلد 4) — Page 371
انوار العلوم جلد ۴ ۳۷۱ عرفان الهی اس نے اس سے دریافت کیا کہ میرے باغ سے انگور کیوں لئے جاتے ہو۔ اس نے کہا پہلے میری بات سن لو پھر جو چاہے کرنا۔ مالک باغ نے کہا بیان کرو۔ اس نے کہا مجھے ایک بگولا نے اٹھا کر باغ میں لا ڈالا۔ اتفاقاً جہاں میں آکر گرا وہاں انگوروں کے درخت تھے۔ ایسے وقت میں آپ جانتے ہیں کہ انسان اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے جو ادھر ادھر ہاتھ مارنے شروع کئے۔ تو بیلوں پر سے انگور گر گر کر ایک ٹوکرے میں جو وہیں پڑا تھا جمع ہونے لگے ۔ اب بتاؤ اس میں میرا کیا قصور ہے۔ باغ کے مالک نے کہا یہ تو جو کچھ ہوا ٹھیک ہوا۔ مگر یہ تو بتلاؤ کہ ٹوکرا تمہارے سر پر رکھ کر تمہیں یہ کس نے کہا کہ اپنے گھر کی طرف لے جاؤ وہ کہنے لگا یہی میں بھی سوچتا آرہا تھا کہ یہ مجھے کس نے کہا تھا۔ بعینہ اسی طرح اس شخص کا حال ہوتا ہے جو ہرے خیال کو اپنے دل میں جگہ دیتا اور قائم کرتا ہے ۔ کیونکہ گو وہ برے خیال کے دل میں لانے میں مجرم نہیں مگر اس کے قائم رکھنے کا مجرم ہے۔ بیشک اس سے یہ دریافت نہیں کیا جاوے گا کہ برا خیال اس کے دل میں کیوں آیا مگر یہ اس سے ضرور دریافت کیا جاویگا کہ اس برے خیال کو اس نے دل میں قائم کیوں کیا اور اس کو سزادی جائیگی۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ اس خیال کو دل میں کیوں لایا بلکہ اس وجہ سے کہ اس نے اسے دل میں رکھا کیوں۔ اور یہ انسان کے اپنے اختیار کی بات ہے۔ اس کے اختیار سے باہر نہیں کہ وہ برے خیالات کو دل سے نکال دے۔ تزکیہ نفس کا پہلا طریق غرض تزکیہ نفس کے لئے پلی بات یہ ضروری ہے کہ انسان برے اور ناپاک خیالات کو دل سے دور کرتا رہے۔ دوسرا طریق قرآن کریم میں حصول تزکیہ کا بلکہ ہر ایک کام میں کامیاب دوسرا طریق ہونے کا یہ بتایا گیا ہے کہ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِ هَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَآتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (البقرۃ : ١٩٠) یعنی نیکی یہ نہیں کہ تم مشقت اٹھاؤ اور کود کود کر گھروں میں آؤ ۔ بلکہ نیکی تقوی سے حاصل ہوتی ہے۔ پس جن کاموں کے کرنے کے جو طریق بتائے گئے ہیں ان کو اختیار کرو اور تقویٰ اللہ کرو تا کامیاب ہو۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کامیابی کے لئے ان صحیح ذرائع کا استعمال کرنا نہایت ضروری ہے جو اس غرض کے لئے اللہ تعالی نے مقرر کئے ہیں۔ اور چونکہ عرفان الہی کے حصول کا صحیح ذریعہ تزکیہ نفس ہے اور تزکیہ نفس اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک پہلے بدیوں سے اجتناب اور پھر نیکیوں کو اختیار نہ کیا جاوے۔ اس لئے ضروری ہے