انوارالعلوم (جلد 4) — Page 348
انوار العلوم جلد ۴ ۳۴۸ عرفان الهی جورو ہے کہ رسول کریم ال کبھی گمراہی اور ضلالت میں نہیں پڑے مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوى (النجم :(۳) بلکہ آپ کے ہر ایک فعل کو اسوہ حسنہ قرار دیتا ہے ۔ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةً حَسَنَةٌ الاحزاب : (۲۲) اب ضال کے معنی ایسے ہی کئے جائینگے جو دو سری آیات کے مطابق ہوں اور وہ یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تو میری محبت میں اس قدر گم ہو گیا تھا کہ مجھے پتہ ہی نہ تھا کہ میں کہاں جا رہا ہوں اور ۔ اہوں اور تجھے میری تلاش میں اپنے سر پیر کی بھی ہوش نہ رہی۔ تیرے تمام خیالات اور تمام جذبات میری محبت میں گم ہو گئے۔ رسول کریم کے ایسا گم ہونے کو ہم ماننے کے لئے تیار ہیں اور تیار کیا ہم تو کہتے ہیں ایسا ضرور ہوا ہے۔ ایسی شدید محبت پیدا ہونے پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ فھدی اس کے بعد ہم نے ہدایت کی۔ اب دیکھ لو یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حال تھا۔ باقی انبیاء کو آپ پر قیاس کر لو کیونکہ آپ تمام انبیاء کے سردار اور ان کے احوال کے جامع تھے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کو تو پ کو تو خدا کی معرفت کے فت کے لئے محنت برداشت کرنی پڑی ہو مگر اوروں کو یونہی حاصل ہو گئی ہو۔ اگر کسی شخص کو محنت کے بغیر یہ نعمت حاصل ہو سکتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور محنت کے بغیر حاصل ہوتی۔ لیکن جب رسول کریم کے متعلق آیا ہے کہ انہیں اپنے آپ کو مٹانے کے بعد خدا ملا تو یہ خیال بالکل غلط ہو جاتا ہے کہ کسی شخص کو اس امت کے اولیاء میں ایسی طاقت مل گئی کہ وہ ایک نظر میں لوگوں کو اقطاب بنا دیتے تھے۔ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر محنت کے یہ درجہ نہیں ملا تو اور کسی کو کسی طرح مل سکتا ہے۔ پس جو لوگ اس نعمت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں شدید محنت کرنی پڑیگی۔ اس کے بغیر کچھ حاصل ہونا بالکل ناممکن ہے تعجب ہے کہ انگریزی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے لڑکے کم از کم ۱۶ سال محنت اور مشقت کرتے ہیں مگر خدا کا عرفان ایک دن میں حاصل کر لینا چاہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ عرفان الهی خدا کے فضل اور اس کی توفیق سے حاصل ہو سکتا ہے۔ ورنہ اگر دنیا کی چیزوں کے حاصل کرنے کے لئے جس قدر محنت اور وقت خرچ ہوتا ہے ان کی نسبت سے اس کے لئے بھی محنت اور وقت رکھا جاتا تو کروڑوں کروڑ سال اس کے لئے لگتے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایک نظر میں حاصل ہو جانا چاہئے۔ مگر ہم کہتے ہیں اس سے زیادہ اس کا حاصل کرنا کیا آسان ہو سکتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کے ذریعہ چند سالوں یا چند ماہ میں حاصل ہو جاتا ہے اور جتنی جتنی کسی میں قابلیت ہوتی اور جس قدر کوئی زیادہ محنت کرتا ہے اتنا ہی جلدی حاصل کر لیتا ہے۔ پس اس بات کو خوب یا د رکھو کہ خدا تعالیٰ