انوارالعلوم (جلد 4) — Page 344
انوار العلوم جلد ۴ لام الدلم عرفان الهی سے نے بکر کو پہچان لیا تو اس کا یہی مطلب ہو گا کہ وہ باتیں جو خاص بکر میں پائی جاتی تھیں اور دوسروں میں نہیں ، ان کے ذریعہ سے اس نے بکر کو مشخص کر لیا کہ فلاں شخص بکر ہے۔ اس طرح عرفانِ الہی کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ بندہ نے خدا تعالیٰ کی جو صفات آسمانی کتاب میں پڑھیں اور معلوم کی ہیں کہ خدا ایسا رحیم و کریم ہے ایسا ستار و غفار ہے، اسکو ایک ایسی ہستی مل جاوے کہ جس میں وہ صفات پائی جاتی ہوں اور وہ ان صفات کا مشاہدہ کرلے ۔ ورنہ عرفان کے یہ معنی نہیں کہ انسان کو یہ معلوم ہو جائے کہ خدا رحیم ، کریم اور رحمن ہے کیونکہ یہ تو ہر مسلمان جانتا ہی ہے۔ اور اگر یہی عرفان ہوتا تو اور زیادہ عرفان حاصل کرنے کی ضرورت ہی نہ رہتی اور خدا تعالی کی مختلف صفات جو قرآن اور حدیث میں بیان کی گئی ہیں ان کو معلوم کر کے ہر ایک انسان عارف کہلا سکتا ہے مگر ایسا نہیں ہوتا۔ سب لوگ مانتے ہیں کہ خدا رب ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ خدا رحیم ہے۔ وہ اقرار کرتے ہیں کہ خدا کریم ہے ، حفیظ ہے ، مهیمن ہے مگر ان کو عارف باللہ نہیں کہا جاتا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض خدا تعالیٰ کی صفات کو جان لینے کوئی انسان عارف نہیں ہو سکتا۔ دراصل عارف باللہ وہ ہوتا ہے جو خدا ہوتا ہے جو خدا کو پہچان لیتا ہے۔ اور اس پہچاننے کی تشریح یہ ہے کہ اس میں جو باتیں ایسی ہیں جو اور کسی ہستی میں نہیں پائی جاتیں ان کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کسی نے سنا ہو کہ زید کی شکل ایسی ہے، اس کی عادات ایسی ہیں ، اس کی صفات ایسی ہیں ، اس کا قد اتنا وہ کپڑے اس طرح کے پہنا کرتا ہے ، اب وہ کسی جگہ ان خصوصیات کا آدمی دیکھے اور ان خصوصیات کا خیال کر کے سمجھ لے کہ یہ زید ہے تو کہیں گے کہ اس نے زید کو پہچان لیا۔ اسی طرح عرفان الہی کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات کا کا علم حاصل ہونے کے بعد انسان کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ یہ صفات جو ایک ہستی میں بتائی جاتی ہیں وہ فلاں ہے۔ ایسا انسان صرف یہی نہیں جانتا کہ ایک ہستی مٹھی ہے بلکہ وہ ایک ایسی ہستی کو پالیتا ہے اور مشاہدہ کر لیتا ہے کہ واقعی یہی مجھی ہے۔ تو عرفان کے یہ معنی ہیں کہ جو باتیں سنی ہوئی ہیں ان کو کسی ہستی میں پالیا جائے اور معلوم ہو جائے کہ یہی وہ ہے جس کی فلاں فلاں صفات ہیں۔ مگر افسوس کہ بہت لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہو تاکہ عرفان کیا ہے۔ اور وہ یونہی سنے ہوئے الفاظ کو سامنے رکھ کر روتے اور چلاتے ہیں کہ ہمیں عرفان حاصل ہو جائے۔ ان سے اگر پوچھا جائے تو 99 فیصدی نہیں بلکہ ہزار میں سے ۹۹۹ کچھ بھی نہیں بتا سکیں گے ۔ ان کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسا کہ رات کے اندھیرے میں کوئی شخص ہاتھ پاؤں مارے