انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 342

انوار العلوم جلد ۴ روزی ر۔ ۳۲ عرفان الهی رکھتے، حج کرتے، زکوۃ دیتے صدقہ و خیرات کرتے، دعائیں مانگتے ہیں مگر باوجود اس کے اس درجہ کو نہیں پہنچتے کہ لذت اور سرور حاصل ہو سکے۔ ایسے لوگ التجاء کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسے گر بتا دیئے جائیں جن کے ذریعہ عرفانِ الہی حاصل ہو سکے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک ایسا ضروری امر ہے کہ انسان کی پیدائش ہی اس لئے ہوتی ہے۔ اور دوسری مخلوق اور انسان میں فرق ہی یہ ہے کہ انسان کو عرفانِ الہی حاصل کرنے کی طاقت حاصل ہے اور دوسری مخلوق کو نہیں۔ اور اگر یہ انسان کو حاص کو حاصل نہ ہو تو پھر وہ بہائم سے بد تر ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کو طاقت نہیں دی جاتی اس لئے وہ اس کے حاصل نہ کرنے میں معذور ہیں۔ لیکن اس کو طاقت دی جاتی ہے جس سے یہ فائدہ نہیں اٹھاتا۔ تو عرفان الہی ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے اور اس کے بغیر کوئی انسان کامل نہیں ہو سکتا۔ ہماری جماعت میں اس بات کی تڑپ پائی جاتی ہے کہ اللہ تعالٰی کی محبت دلوں میں پیدا ہو جائے۔ اور جسم کے ذرے ذرے میں خدا تعالیٰ کی جلوہ گری ہو ۔ مگر باوجود اس بچی تڑپ کے انہیں یہ بات حاصل نہیں ہوتی اور وہ شکایت ہی کرتے رہتے ہیں۔ بہت لوگ ایسے ہیں جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے اور دنوں میں بہت سا وقت اس میں صرف کرتے ہیں کہ خدا مل جائے۔ مگر پھر بھی ان کا مدعا حاصل نہیں ہوتا اور باوجود کوشش اور سعی کے انہیں ان کا محبوب نہیں ملتا۔ ان پر عرفانِ الہی کے دروازے کھولے نہیں جاتے۔ ان کے اور محبوب کے درمیان دیوار حائل ہی رہتی ہے۔ اب سوال ہوتا ہے کہ وہ کونسے ذرائع اور طریق ہیں جن سے روک دور ہو سکتی اور مدعا حاصل ہو سکتا ہے۔ ان کوششوں اور محنتوں کے بعد بہت سے لوگ جن کو خدا نہیں ملتا بالکل مایوس ہو جاتے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ خدا ہے ہی نہیں ۔ اور یا تو وہ خدا کے ملنے کے لئے تڑپتے اور کوشش کرتے تھے یا اس کے بالکل ہی منکر ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں بتلایا گیا تھا کہ اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے تم خدا کو پا سکتے ہو ۔ ہم نے اپنی طرف سے اس پر عمل کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ اور جس قدر ہماری طاقت میں تھا ہم نے کوشش کی۔ مگر ہمیں خدا نہیں ملا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کوئی ہے ہی نہیں۔ کیونکہ اگر ہوتا تو ضرور ملتا ۔ * ☆ ہی اس وقت ایک دوست نے رقعہ دیا ہے۔ جو لکھتے ہیں کہ معرفت الہی اور عرفان الہی کی تشریح کر دی جائے۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ کوئی مضمون اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک یہ نہ بتلادیا جائے کہ وہ ہے کیا چیز۔ پس جب میں عرفان الہی کے متعلق بیان کرنے کے لئے کھڑا ہوں تو جب تک اس کی تعریف ہی نہ تاؤ نگا کیا بیان کر سکوں گا اور آپ لوگوں کو کیا سمجھا سکو نگا۔ آپ تسلی رکھیں کہ معرفت الہی کی تشریح خود بخود آگے آجائیگی۔