انوارالعلوم (جلد 4) — Page 324
انوار العلوم جلد ۴ ۳۲۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز نے اور عضرت عثمان" کا صحابہؓ کو وصیت کرنا باہر تشریف لے آئے اور صحابہ کو اپنے مکان کے اندر لے گئے اور دروازے بند کرا دیئے اور آپ نے سب صحابہ اور ان کے مددگاروں کو وصیت کی کہ خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو دنیا اس لئے نہیں دی کہ تم اس کی طرف جھک جاؤ۔ بلکہ اس لئے دی ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے آخرت کے سامان جمع کرو۔ یہ دنیا تو فنا ہو جاوے گی اور آخرت ہی باقی رہے گی۔ پس چاہئے کہ فانی چیز تم کو غافل نہ کرے۔ باقی رہنے والی چیز کو فانی ہو جانے والی چیز پر مقدم کرو اور خدا تعالیٰ کی ملاقات کو یاد رکھو اور جماعت کو پراگندہ نہ ہونے دو۔ اور اس نعمت الہی کو مت بھولو کہ تم ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تم کو نجات دے کر بھائی بھائی بنا دیا اس یا اس کے بعد آپ نے سب کو رخصت کیا۔ اور کہا کہ خدا تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو۔ تم سب اب گھر سے باہر جاؤ اور ان صحابہ کو بھی بلواؤ جن کو مجھ تک آنے نہیں دیا؟ دیا تھا۔ خصوصاً حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر کو۔ یہ لوگ باہر آگئے اور دوسرے صحابہ کو بھی بلوایا گیا۔ اس وقت کچھ ایسی ایسی کیفیت پیدا ہو رہی تھی اور ایسی افسردگی چھا رہی تھی کہ باغی بھی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہے۔ اور کیوں نہ ہو تا سب دیکھ رہے تھے کہ محمد رسول اللہ ا کی جلائی ہوئی ایک شمع اب اس دنیا کی عمر کو پوری کر کے اس دنیا کے لوگوں کی نظر سے اوجھل ہونے والی ہے۔ غرض باغیوں نے زیادہ اور تعریض نہ کیا اور سب صحابہ جمع ہوئے ۔ جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ گھر کی دیوار پر چڑھے فرمایا میرے قریب ہو جاؤ ۔ جب سب قریب ہو گئے تو فرمایا کہ اے لوگو ! بیٹھ جاؤ۔ اس پر صحابہ بھی اور مجلس کی ہیبت سے متاثر ہو کر باغی بھی بیٹھ گئے۔ جب سب بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ اہل مدینہ ! میں تم کو خدا تعالی کے سپرد کرتا ہوں اور اس سے دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے بعد تمہارے لئے خلافت کا کوئی بہتر انتظام فرمادے ۔ آج کے بعد اس وقت تک کہ خدا تعالیٰ میرے متعلق کوئی فیصلہ فرمادے میں باہر نہیں نکلوں گا اور میں کسی کو کوئی ایسا اختیار نہیں دے جاؤں گا کہ جس کے ذریعہ سے دین یا دنیا میں وہ تم پر حکومت کرے۔ اور اس امر کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دوں گا کہ وہ جسے چاہے اپنے کام کے لئے پسند کرے۔ اس کے بعد صحابہ و دیگر اہل مدینہ کو ختم دی کہ وہ آپ کی حفاظت کر کے اپنی جانوں کو خطرہ عظیم میں نہ ڈالیں اور اپنے گھروں کو چلے