انوارالعلوم (جلد 4) — Page 315
انوار العلوم جلد ۴ ۳۱۵ اسلام میں اختلافات کا آغاز اپنے گھر میں خاموش بیٹھے رہے ہوں اور ان مفسدوں کا مقابلہ کرنے میں انہوں نے کوئی حصہ نہ لیا ہو عملی طور پر انہوں نے فساد میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ اور ان مفسدوں کی بد اعمالیوں سے ان کا دامن بالکل پاک ہے۔ حضرت عثمان کو کو خلافت سے اسے دست بردا ان تین کے سوا برداری کیلئے مجبور کیا جانا باقی کوئی شخص اہل مدینہ میں سے صحابی ہو یا غیر صحابی ان مفسدوں کا ہمدرد نہ تھا۔ اور ۔ تھا۔ اور ہر ایک شخص ان پر لعنت ملامت کرتا تھا۔ مگر ان کے ہاتھ میں اس وقت سب انتظام تھا یہ کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے تھے ۔ میں دن تک یہ لوگ صرف زبانی طور پر کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح حضرت عثمان خلافت سے دست بردار ہو جائیں ۔ مگر حضرت عثمان نے اس امر سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ جو قمیض مجھے خدا تعالیٰ نے پہنائی ہے میں اسے اتار نہیں سکتا۔ اور نہ امت محمد کو بے پناہ چھوڑ سکتا ہوں کہ جس کا جی چاہے دوسرے پر مظلم ظلم کرے۔ کر کرے ۔ (طبری جلد ۶ صفحه ۲۹۹۰ مطبوعہ بیروت) اور ان لوگوں کو بھی سمجھاتے رہے کہ اس فساد سے باز آجادیں اور فرماتے رہے کہ آج یہ لوگ فساد کرتے ہیں اور میری زندگی سے بیزار ہیں۔ مگر جب میں نہ رہوں گا تو خواہش کریں گے کہ کاش عثمان کی عمر کا ایک ایک دن ایک ایک سال سے بدل جاتا اور وہ ہم سے جلدی رخصت نہ ہوتا۔ کیونکہ میرے بعد سخت خون ریزی ہوگی اور حقوق کا اتلاف ہو گا اور انتظام کچھ کا کچھ بدل جائے گا (چنانچہ بنو امیہ کے زمانہ میں خلافت حکومت سے بدل گئی اور ان مفسدوں کو ایسی سزائیں ملیں کہ سب شرارتیں ان کو بھول گئیں)۔ حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ نہیں دن گزرنے کے بعد ان لوگوں کو خیال ہوا کہ اب صوبہ جات سے فوجیں آجادیں اور ہمیں اپنے اعمال کی سزا بھگتنی پڑے۔ اس لئے انہوں نے حضرت عثمان کا گھر سے نکلنا بند کر دیا۔ اور کھانے پینے کی چیزوں کا اندر جانا بھی روک دیا اور سمجھے کہ شاید اس طرح مجبور ہو کر حضرت عثمان ہمارے مطالبات کو قبول کرلیں گے ۔ مدینہ کا انتظام اب ان لوگوں کے ہاتھ میں تھا اور تینوں فوجوں نے مل کر مصر کی فوجوں کے سردار غافقی کو اپنا سردار تسلیم کر لیا تھا۔ اس طرح مدینہ کا حاکم گویا اس وقت غافقی تھا اور کوفہ کی فوج کا سردار اشتر اور بصرہ کی فوج کا سردار حکیم بن جبلہ (وہی ڈاکو جسے اہل ذمہ کے مال