انوارالعلوم (جلد 4) — Page 300
انوار العلوم جلد ۴ ۳۰۰ اسلام میں اختلافات کا آغاز درخواست کو قبول کر لیا اور ان لوگوں کی درخواست کے مطابق مصر کے والی عبداللہ بن ابی سرح کو بدل دیا۔ اور ان کی جگہ محمد بن ابی بکر کو والی مصر مقرر کر دیا ۔ اس پر یہ لوگ بظاہر خوش ہو کر واپس چلے گئے اور اہل مدینہ خوش ہو گئے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو ایک فساد عظیم سے بچالیا۔ مگر جو کچھ انہوں نے سمجھا وہ درست نہ تھا کیونکہ ان لوگوں کے ارادے اور ہی تھے اور ان کا کوئی کام شرارت اور فساد سے خالی نہ تھا۔ اختلاف روایات کی حقیقت یاد رکھنا چاہئے کہ یہی وقت ہے جب سے روایات میں نہایت اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ اور جو واقعات میں نے بیان کئے ہیں ان کو مختلف راویوں نے مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے حتی کہ حق بالکل چھپ گیا ہے اور بہت سے لوگوں کو دھوکا لگ گیا ہے ۔ اور وہ اس تمام کارروائی میں یا صحابہ کو شریک سمجھنے لگے ہیں یا کم سے کم ان کو مفسدوں سے دلی ہمدردی رکھنے والا خیال کرتے ہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ اس زمانہ کی تاریخ کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے بعد کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا جو ایک یا دو جو ایک یا دوسرے فریق سے ہمدردی رکھنے والوں سے خالی ہو۔ اور یہ بات تاریخ کے لئے نہایت مضر ہوتی ہے۔ کیونکہ جب سخت عداوت یا ناواجب محبت کا دخل ہو روایت کبھی بعینہ نہیں پہنچ سکتی۔ اگر راوی جھوٹ سے کام نہ بھی لیں تب بھی ان کے خیالات کا رنگ ضرور پڑھ جاتا ہے۔ اور پھر تاریخ کے راویوں کے حالات ایسے ثابت شدہ نہیں ہیں جیسے کہ احادیث کے رواۃ کے۔ اور گو مؤرخین نے بہت احتیاط سے کام لیا ہے پھر بھی حدیث کی طرح اپنی روایت کو روزِ روشن کی طرح ثابت نہیں کر سکتے۔ پس بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ تاریخ کی تصحیح کا زریں اصل چیکن صحیح حالات معلوم کرنا نا مکن بھی ہیں کیونکہ خدا ناممکن نے ہیں ۔ سے و کو خوب عمدگی سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اور ایسے دادی بھی موجود ہیں جو بالکل بے تعلق ہونے کی وجہ سے واقعات کو کما حقہ بیان کرتے ہیں۔ اور تاریخ کی تصحیح کا یہ زریں اصل ہے کہ واقعات عالم ایک زنجیر کی طرح ہیں۔ کسی منفرد واقع کی صحت معلوم کرنے کے لئے اسے زنجیر میں پرو کر دیکھنا چاہئے کہ وہ کڑی ٹھیک اپنی جگہ پر پروئی بھی جاتی ہے کہ نہیں۔ غلط اور صحیح واقعات میں تمیز کرنے کے لئے یہ ایک نہایت ہی کا درآمد مددگار ہے۔