انوارالعلوم (جلد 4) — Page 287
انوار العلوم جلد ؟ ۲۸۷ اسلام میں اختلافات کا آغاز ہوئے تھے کہ سعید بن العاص کے متعلق جلسہ کرکے درخواست کریں کہ اس کو یہاں سے بلوایا جائے اور کوئی اور افسر مقرر کیا جاوے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے جلسوں کی ضرورت نہیں۔ اپنی شکایات لکھ کر حضرت عثمان کی طرف بھیج دو۔ وہ کسی اور شخص کو والی مقرر کر کے بھیج دیں گے۔ اس میں مشکل کون سی ہے۔ یہ بات انہوں نے اس لئے کہی کہ زمانہ خلفاء میں لوگوں کے آرام کے خیال سے جب والیوں کے خلاف کوئی تکلیف ہوتی تھی تو اکثر ان کو بدل دیا جاتا تھا۔ قعقاع کا یہ جواب سن کر یہ لوگ بظاہر منتشر ہو گئے مگر خفیہ طور پر منصوبہ کرتے رہے۔ آخر یزید بن قیس نے جو اس وقت کوفہ میں سبائیوں کا رئیس تھا ایک آدمی کو خط دے کر حمص کی طرف روانہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں کو جو کوفہ سے جلا وطن کئے گئے تھے اور جن کا واقعہ پہلے بیان ہو چکا ہے وہ بلا لائے ۔ وہ خط لے کر ان لوگوں کے پاس گیا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا کہ اہل مصر ہمارے ساتھ مل گئے ہیں اور موقع بہت اچھا ہے یہ خط پہنچتے ہی ایک منٹ کی دیر نہ کرو اور واپس آجاؤ۔ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ خلیفہ وقت سابق بالایمان رسول کریم کے داماد کے خلاف جوش ظاہر کرنے والے اور اس پر عیب لگانے والے وہ لوگ ہیں جو خود نمازوں کے تارک ہیں۔ کیا ہو سکتا ہے کہ اسلام کے لئے غیرت صرف بے دینوں میں پیدا ہو ؟ اگر واقع میں حضرت عثمان یا ان کے والیوں میں کوئی نقص ہوتا۔ کوئی بات خلاف شریعت ہوتی کوئی کمزوری ہوتی تو اس کے خلاف جوش کا اظہار کرنے والے علی، طلحہ زبیر سعد بن الوقاص، عبدالله بن عمر اسامہ بن زید عبداللہ بن عباس ابو موسیٰ اشعری حذیفہ بن الیمان ابو ہریرہ عبد الله بن سلام عبادہ بن صامت اور محمد بن مسلمہ رضوان اللہ علیہم ہوتے نہ کہ یزید بن قیس اور اشتر یہ خط لے کر نامہ بر جزیرہ پہنچا اور جلا وطنان اہل کوفہ کے سپرد کر دیا۔ جب انہوں نے اس خط کو پڑھا تو سوائے اشتر کے سب نے ناپسند کیا۔ کیونکہ وہ عبدالرحمن بن خالد کے ہاتھ دیکھ چکے قائم نہ رہی تھے۔ مگر اشتر جو مدینہ میں جاکر حضرت عثمان سے معافی مانگ کر آیا تھا اس کی توبہ قائم : اور اسی وقت کوفہ کی طرف چل پڑا۔ جب اس کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اشتر واپس چلا گیا تو وہ ڈرے کہ عبدالرحمن ہماری بات پر یقین نہ کریں گے اور سمجھیں گے کہ یہ سب کام ہمارے مشورہ سے ہوا ہے۔ اس خوف سے وہ بھی نکل بھاگے جب عبدالرحمن بن خالد بن ولید کو