انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 283

انوار العلوم جلد ؟ ۲۸۳ اسلام میں اختلافات کا آغاز تعدی کرنے نہ دیتے تھے چنانچہ اس امر کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ کوفہ میں انہی فساد چاہنے والوں کی ایک مجلس بیٹھی اور اس میں افساد امر المسلمین پر گفتگو ہوئی تو سب لوگوں نے بالاتفاق کی رائے دی لا وَاللَّهِ لَا يَرْفَعُ رَأْسَ مَا دَامَ عُثْمَانُ عَلَى النَّاسِ یعنی کوئی شخص اس وقت تک سر نہیں اٹھا سکتا جب تک کہ عثمان کی حکومت ہے۔ عثمان ہی کا ایک وجود تھا جو سرکشی سے باز رکھے ہوئے تھا۔ اس کا درمیان سے ہٹانا آزادی سے اپنی مرادیں پوری کرنے کے لئے ضروری تھا۔ میں نے بتایا تھا کہ عمار بن یا سرجن کو مصر کی طرف روانہ کیا گیا تھا وہ واپس نہیں آئے۔ ان کی طرف سے خبر آنے میں اس قدر دیر ہوئی کہ اہل مدینہ نے خیال کیا کہ کہیں مارے گئے ہیں۔ مگر اصل بات یہ تھی کہ وہ اپنی سادگی اور سیاست سے ناواقفیت کی وجہ سے ان مفسدوں کے پنجہ میں پھنس گئے تھے جو عبد اللہ بن سبا کے شاگرد تھے ۔ مصر میں چونکہ خود عبد اللہ بن سبا موجود تھا اور وہ اس بات سے غافل نہ تھا کہ اگر اس تحقیقاتی وفد نے تمام ملک میں امن و امان کا فیصلہ دیا تو تمام لوگ ہمارے مخالف ہو جاویں گے اس وفد کے بھیجے جانے کا فیصلہ ایسا اچانک ہوا تھا کہ دوسرے علاقوں میں وہ کوئی انتظام نہیں کر سکا تھا۔ مگر مصر کا انتظام اس کے لئے آسان تھا جو نہی عمار بن یا سر مصر میں داخل ہوئے اس نے ان کا استقبال کیا۔ اور والی مصر کی برائیاں اور مظالم بیان کرنے شروع کئے۔ وہ اس کے لسانی سحر کے اثر سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اور بجائے اس کے کہ ایک عام بے لوث تحقیق کرتے ۔ والی مصر کے پاس گئے ہی نہیں اور نہ عام تحقیق کی بلکہ اس مفسد گروہ کے ساتھ چلے گئے اور انہی کے ساتھ مل کر اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔ صحابہ میں سے اگر کوئی شخص اس مفسد گروہ کے پھندے میں پھنسا ہوا یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے تو وہ صرف عمار بن یاسر ہیں۔ ان کے سوا کوئی معروف صحابی اس حرکت میں شامل نہیں ہوا۔ اور اگر کسی کی شمولیت بیان کی گئی ہے تو دوسری روایات سے اس کا رد بھی ہو گیا ہے۔ عمار بن یا سر کا ان لوگوں کے دھوکے میں آجانا ایک خاص وجہ سے تھا اور وہ یہ کہ جب وہ مصر پہنچے تو وہاں پہنچتے ہی بظاہر ثقہ نظر آنے والے اور نہایت طرار داستان لوگوں کی ایک جماعت ان کو ملی جس نے نہایت عمدگی سے ان کے پاس والی مصر کی شکایات بیان کرنی شروع کیں۔ اتفاقا والی مصر ایک ایسا شخص تھا جو کبھی رسول کریم ال کا سخت مخالف رہ چکا تھا اور اس کی