انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 281

انوار العلوم جلد ۴ ۲۸۱ اسلام میں اختلافات کا آغاز اور مسلمان بالکل آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور ان کے حقوق کو کوئی تلف نہیں کرتا اور حکام عدل و انصاف سے کام لے رہے ہیں۔ مگر عمار بن یاسر نے دیر کی اور ان کی کوئی خبر نہ آئی عمار بن یاسر نے کیوں دیر کی اس کا ذکر تو پھر کروں گا۔ پہلے میں اس تحقیقی وفد اور اس کی تحقیق کی اہمیت کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ اس وفد کے حالات کو اچھی طرح سمجھ لینے سے اس فتنہ کی اصل حقیقت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلی بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ اس وفد کے تینوں سر کردہ جو لوٹ کر آئے اور جنہوں نے آکر رپورٹ دی وہ کسی پایہ کے آدمی تھے۔ کیونکہ تحقیق کرنے والے آدمیوں کی حیثیت سے اس تحقیق کی حیثیت معلوم ہوتی ہے۔ اگر اس وفد میں ایسے لوگ بھیجے جاتے جو حضرت عثمان یا آپ کے نواب سے کوئی غرض رکھتے یا جن کی دینی و دنیاوی حیثیت اس قدر اعلیٰ اور ارفع نہ ہوتی کہ وہ حکام سے خوف کھادیں یا کوئی طمع رکھیں تو کہا جا سکتا تھا کہ یہ لوگ کسی لالچ یا خوف کے باعث حقیقت کے بیان کرنے سے اعراض کر گئے۔ مگر ان لوگوں پر اس قسم کا اعتراض ہرگز نہیں پڑ سکتا اور ان لوگوں کو اس کام کے لئے منتخب کر کے حضرت عثمان نے اپنی نیک نیتی کا ایک بین ثبوت دے دیا ہے۔ اسامہ جن کو بصرہ کی طرف بھیجا گیا تھا وہ شخص ہے کہ جو نہ صرف یہ کہ اول المؤمنین حضرت زید کے لڑکے ہیں بلکہ رسول کریم ال کے بڑے مقربین اور پیاروں میں سے ہیں۔ اور آپ ہی وہ شخص ہیں جن کو رسول کریم اللہ نے اس لشکر عظیم کی پہ سالاری عطا کی جسے آ۔ آپ اپنی مرض موت میں تیار کرا رہے تھے اور اس میں حضرت عمر جیسے بڑے بڑے صحابیوں صحابیوں کو آپ کے ماتحت کیا اور آنحضرت ا کا یہ انتخاب صرف دلداری کے طور پر ہی نہ تھا بلکہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ وہ بڑے بڑے کاموں کے اہل تھے۔ رسول کریم ان سے اس قدر محبت کرتے کہ دیکھنے والے فرق نہ کر سکتے تھے کہ آپ آ۔ ان کو زیادہ چاہتے ہیں یا حضرت امام حسن کو ۔ محمد بن مسلم بھی جن کو کوفہ بھیجا گیا جلیل القدر صحابہ میں سے تھے اور صحابہ میں خاص عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور نہایت صاحب رسوخ تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ جن کو شام کی طرف روانہ کیا گیا ایسے لوگوں میں سے ہیں جن کے تعارف کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ سابق بالعهد مسلمانوں میں سے تھے۔ اور زہد و تقوی اللہ میں آپ کی وہ شان تھی کہ اکابر صحابہ بھی آپ کی ان خصوصیات کی وجہ سے آپ کا خاص