انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 268

انوار العلوم جلد ۴ ۲۶۸ اسلام میں اختلافات کا آغاز میں اس کی باتوں سے ایک نیا جوش پیدا ہو گیا اور آپ نے آگے سے بھی زیادہ زور کے ساتھ مسلمانوں کو نصیحت کر دی کہ سب اپنے اپنے اموال لوگوں میں تقسیم کر دیں۔ حضرت ابوزر کا یہ کہنا درست نہ تھا کہ کسی کو مال جمع نہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ صحابہ مال جمع نہیں کیا کرتے تھے بلکہ ہمیشہ اپنے اموال خدا کی راہ میں تقسیم کرتے تھے۔ ہاں بے شک مالدار تھے اور اس کو مال جمع کرنا نہیں کہتے ۔ مال جمع کرنا اس کا نام ہے کہ اس مال سے غرباء کی پرورش نہ کرے اور صدقہ و خیرات نہ کرے۔ خود رسول کریم اس کے وقت میں بھی آپ کے صحابہ میں سے بعض مالدار تھے۔ اگر مالدار نہ ہوتے تو غزوہ تبوک کے وقت دس ہزار سپاہیوں کا سامان سفر حضرت عثمان کس طرح ادا کرتے۔ مگر رسول کریم ال ان لوگوں کو کچھ نہ کہتے تھے۔ بلکہ ان میں سے بعض آدمی آپ کے مقرب بھی تھے۔ غرض مالدار ہونا کوئی جرم نہ تھا بلکہ قرآن کی پیشگوئیوں کے عین مطابق تھا اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو اس مسئلہ میں غلطی لگی ہوئی تھی۔ مگر جو کچھ بھی تھا، حضرت ابو ذر اپنے خیال پر پختہ تھے۔ مگر ساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ وہ اپنے خیال کے مطابق نصیحت تو کر دیتے مگر قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں نہ لیتے اور آنحضرت کے احکام آپ کے زیر نظر رہتے۔ لیکن جن لوگوں میں بیٹھ کر وہ یہ باتیں کرتے تھے وہ ان کے تقویٰ اور طہارت سے نا آشنا تھے اور ان کی باتوں کا اور مطلب سمجھتے تھے۔ چنانچہ ان باتوں کا آخر یہ نتیجہ نکلا کہ بعض غرباء نے امراء پر دست تعدی دراز کرنا شروع کیا اور ان سے جبرا اپنے حقوق وصول کرنے چاہیے۔ انہوں نے حضرت معاویہ سے شکایت کی۔ جنہوں نے آگے حضرت عثمان کے پاس معاملہ پیش کیا۔ آپ نے حکم بھیجا کہ ابوذر کو اکرام و احترام کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ کر دیا جاوے۔ اس حکم کے ماتحت حضرت ابوذر مدینہ تشرف لائے۔ حضرت عثمان نے آپ سے دریافت کیا کہ کیا سبب ہے کہ اہل شام آپ کے خلاف شکایت کرتے ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ دیا کہ میرا ان سے یہ اختلاف ہے کہ ایک تو مال ! ز مال اللہ نہ کہا جائے دوسرے یہ کہ امراء مال نہ جمع کریں۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ ابوذر جو ذمہ داری خدا تعالیٰ نے مجھ پر ڈالی ہے اس کا ادا کرنا میرا ہی کام ہے اور یہ میرا فرض ہے کہ جو حقوق رعیت پر ہیں ان سے وصول کروں۔ اور یہ کہ ان کو خدمت دین اور میانہ روی کی تعلیم دوں۔ مگر یہ میرا کام نہیں کہ ان کو ترک دنیا پر مجبور کروں۔ حضرت ابوذر نے عرض کیا کہ پھر آپ مجھے ! آپ مجھے اجازت دیں کہ میں کہیں چلا جاؤں کیونکہ مدینہ اب میرے مناسب حال نہیں۔ حضرت عثمان نے کہا کہ