انوارالعلوم (جلد 4) — Page 264
انوار العلوم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز رحم زنی کے لئے بن گئی تھی۔ لکھا ہے کہ ان لوگوں نے ایک دفعہ علی بن حیسمان الخزاعی نامی ایک شخص کے گھر پر ڈاکہ مارنے کی تجویز کی۔ اور رات کے وقت اس کے گھر میں نقب لگائی۔ اس کو اس کو علم ہو گیا اور وہ تلوار لے کر نکل۔ نکل پڑا۔ مگر جب : ا۔ مگر جب بہت سی جماعت دیکھی تو اس نے شور مچایا۔ اس پر ان لوگوں نے اس کو کہا کہ چپ کر ہم ایک ضرب مار کر تیرا سارا ڈر نکال دیں گے اور اس کو قتل کر دیا۔ اتنے میں ہمسائے ہوشیار ہو گئے اور ارد گرد جمع ہو گئے اور ان ڈاکوؤں کو پکڑ لیا۔ حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ نے جو صحابی تھے اور اس شخص کے ہمسایہ تھے اور انہوں نے سب ۔ اپنے سب حال اپنی ولا اپنی دیوار پر سے دیکھا تھا۔ انہوں نے شہادت دی کہ واقعہ میں انہی لوگوں نے علی کو قتل کیا ہے اور اسی طرح ان کے بیٹے نے شہادت دی اور معاملہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ کر بھیج دیا۔ انہوں نے ان سب کو قتل کرنے کا فتوی دیا اور ولید بن عتبہ نے جو ان دنوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے ان سب ڈاکوؤں کو دروازہ شہر کے باہر میدان میں قتل کروا دیا ۔ (طبری جلد ۵ صفحه ۲۸۴۱٬۲۸۴۰ مطبوع بیروت ) بطان بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس زمانے کے حالات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی واقعہ نہ تھا۔ اسلام کی ترقی کے ساتھ ساتھ جرائم کا سلسلہ بالکل مٹ گیا تھا۔ اور لوگ ایسے امن میں تھے کہ کھلے دروازوں سوتے ہوئے بھی خوف نہ کھاتے تھے۔ حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مال کی ڈیوڑھیاں بنانے سے بھی منع کر دیا تھا۔ گو اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غرض تو یہ تھی کہ لوگ آسانی سے اپنی شکایات گورنروں کے پاس پہنچا سکیں۔ لیکن یہ حکم اس وقت تک ہی دیا جا سکتا تھا جب تک امن انتہاء تک نہ پہنچا ہوا صاحب ہوتا۔ پھر اس وا واقعہ میں خصوصیت یہ بھی تھی کہ کہ اس ڈاکہ میں بعض ذی مقدرت اور صاح ثروت لوگوں کی اولاد بھی شامل تھی جو اپنے اپنے حلقے میں بارسوخ تھے۔ پس یہ واردات معمولی واردات نہ تھی بلکہ کسی عظیم الشان انقلاب کی طرف اشارہ کرتی تھی۔ جو اس کے سوا کیا ہو سکتا تھا کہ دین اسلام سے ناواقف لوگوں کے دلوں پر جو تصرف اسلام تھا اب اس کی گرفت کم ہو رہی تھی۔ اور اب وہ پھر اپنی عادات کی طرف لوٹ رہے تھے۔ اور غریب ہی نہیں بلکہ امراء بھی اپنی پرانی عظمت کو قتل و غارت سے واپس لینے پر آمادہ ہو رہے تھے۔ حضرت ابو شریح صحابی نے اس امر کو خوب سمجھا اور اس وقت اپنی سب جائداد و غیرہ بیچ کر اپنے اہل و عیال سمیت مدینہ کو واپس تشریف لے گئے اور کوفہ کی رہائش ترک کر دی۔ ان کا