انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 241

انوار العلوم جلد ۴ ام اصلاح اعمال کی تلقین اگر آج ہماری ساری جماعت اپنے قلوب کو قلب صاف ہو جانے کے بعد کیا ہو گا صاف کرے اور ایسا بنالے کہ کوئی ٹھو کر کوئی تکلیف کوئی مشکل اور کوئی مصیبت اسے صراط مستقیم مستقیم سے ہٹا نہ سکے اور دشمن تو الگ تو الگ رہے اگر اپنوں سے بھی کوئی رنج اور تکلیف پہنچے تو بھی عقائد سے متزلزل نہ ہو کیونکہ اس نے کسی کے لئے حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کیا بلکہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے مانا ہے۔ پس اگر ہماری جماعت کے تمام افراد کو یہ بات حاصل ہو جائے تو موجودہ صورت سے کئی گنا بڑھ کر ہماری ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی اور جس طرح سیلاب کے سامنے بڑی بڑی عمارتیں اور دیواریں گرتی اور مٹتی جاتی ہیں اسی طرح اس روحانیت کے دریا کے سامنے کفر کی عمارتیں دھڑا دھڑ گرتی چلی جائیں گی۔ پھر قلب کی صفائی کے ساتھ ظاہری صفائی کی بھی ضرورت ہے اس لئے اس سے بھی غافل نہ رہنا چاہئے اور اپنے فرائض کی اہمیت اور موقع کی نزاکت کو خوب اچھی طرح محسوس کرنا چاہئے۔ موجودہ نازک حالت اس وقت حالت یہ ہے کہ پہلی بوسیدہ عمارتوں کو مٹایا جا رہا ہے ان کی جگہ نئی بنیادیں رکھی جارہی ہیں اور ایسا وقت بہت نازک اور تکلیف دہ ہوتا ہے جبکہ پرانی عمارت گرا کر نئی بنائی جارہی ہوتی ہے کیونکہ خواہ مکان پرانا اور بوسیدہ ہو تو بھی اس میں گزارہ کرنے والے کر ہی لیتے ہیں بارش میں اگر ایک جگہ سے ٹپکے تو دوسری جگہ ہو بیٹھتے ہیں۔ گرمی میں دھوپ سے اور سردی میں ہو اسے بچتے ہیں لیکن جب مکان بالکل گر جائے تو پھر کچھ بھی سہارا نہیں رہتا۔ پس آج اسلام کی وہ عمارت جو نا اہا جو نا اہلوں کی وجہ سے بوسیدہ ہو گئی تھی گرادی گئی ہے اور اب نئی عمارت بنائی جائے گی۔ بوسیدہ عمارت کے گرنے سے ہمیں خوشی ہے کہ نئی بنے گی لیکن جس طرح نیا مکان بنانے کے لئے بہت زیادہ فکر اور کوشش کرنی پڑتی ہے، اس سے زیادہ کوشش کی ہمیں ضرورت ہے۔ اس وقت زیادہ سے زیادہ دو تین مسلمان کہلانے والوں کی حکومتیں رہ گئی تھیں اور وہی اسلام کی عمارت سمجھی جاتی تھیں لیکن چونکہ وہ ہو۔ وہ بوسیدہ ہو گئیں اس لئے خدا انہیں گرا رہا ہے اور اس طرح مسلمانوں کو بیدار اور ہو شیار کیا گیا ہے۔ اب نئی عمارت بنے گی مگر تلوار کے ذریعہ نہیں، روحانی ذرائع سے اور اس کے لئے تیاری کرنا ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔ اگرچہ یہ دن اسلام کے لئے بہت نازک اور خطرناک دن ہیں مگر جو خدا تعالی پر یقین اور بھروسہ رکھتے ہیں ان کے لئے خوشی کا بھی موقع