انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 234

انوار العلوم جلد ۴ هم ٣٣ اصلاح اعمال کی تلقین المناقب۔ صرف الفاظ اس قدر اثر نہیں رکھتے جس قدر وہ رو رکھتی ہے جو قلب سے نکلتی ہے اور چونکہ ہر قلب ایسا نہیں ہوتا جو اسے دور سے محسوس کر سکے اس لئے قریب ہونے کی وجہ سے چونکہ رو کی شدت بڑھ جاتی ہے اور جلدی اثر ہو جاتا ہے اس لئے قرب کا حکم دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو بتایا گیا کہ جو تیرے زمانہ کے لوگ ہوں گے وہ اچھے ہوں گے اور جو ان سے بعد کے ہوں گے وہ ان سے کم درجہ کے ہوں گے اور جو ان سے بعد کے ہوں گے وہ ان سے کم درجہ کے ہوں گے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے ۔ یا ہے ۔ بخاری کتاب المناقة باب فضائل اصحاب النبي ) اب سوال ہوتا ہے کہ ان سب کی اصلاح تو قرآن کریم اور احادیث کے ذریعہ ہوئی اور اسی طرح سے وہ پاک و صاف ہوئے پھر وجہ کیا ہے کہ رسول کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے لوگ اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں اور ان کے بعد کے ان سے کم اور ان کے بعد کے ان سے بھی کم۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پہلوں پر جس قدر رسول کریم اللہ اور حضرت مسیح موعود کے وجود پاک سے نکلی ہوئی بر کا اثر ہوا وہ بعد زمانی کی وجہ سے بعد والوں پر کم ہوتا گیا دیکھو پانی میں جب پتھر پھینکا جائے تو قریب قریب کی لہریں بہت نمایاں اور واضح ہوتی ہیں اور جوں جوں لہریں پھیلتی جاتی ہیں مدھم ہوتی جاتی ہیں یہی حالت روحانی لہروں کی ہوتی ہے ان پر جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے اور وہ پھیلتی جاتی ہیں تو گو مٹتی نہیں مگر ایسی کمزور اور مدھم ہوتی ہیں کہ ہر ایک دل انہیں محسوس نہیں کرتا اور جو محسوس کرتا ہے وہ بھی پورے طور پر محسوس نہیں کر سکتا۔ اس لئے جن لوگوں کو روحانیت کی لہر پیدا کرنے والے وجود کا قرب مکانی یا قرب زمانی حاصل ہوتا ہے وہ اس لہر سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعد میں آنے والوں سے بہت بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ قرب مکانی اور زمانی کے اثر کا عام اور ظاہری ثبوت اس سے مل سکتا ہے کہ قرب کا اثر آپ لوگوں نے کئی دفعہ تجربہ کیا ہوگا اگر کس کو کوئی کام کرنے کے لئے خط لکھا جائے تو وہ انکار کر دیتا ہے اگر خود اس کے پاس جا کر کہا جائے تو کام کر دیتا ہے ۔ ہر ایک کہنے والا نہیں جانتا کہ اس کی کیا وجہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ منہ دیکھے کا لحاظ کیا گیا ہے لیکن دراصل وہ کرو کا اثر ہوتا ہے جو قرب کی وجہ سے زیادہ پڑتا ہے اور اس طرح جس کو کچھ کہا جائے وہ مان لیتا ؟ ہے۔ اسی طرح وہی تقریر جو ایک جگہ مقرر کے منہ سے سنی جائے جب چھپی ہوئی پڑھی جائے تو اس کا وہ اثر نہیں ہوتا جو سننے کے وقت ہوتا ہے۔ اس وقت بڑا مزا اور لطف آتا ہے لیکن چھپی