انوارالعلوم (جلد 4) — Page 221
انوار العلوم جلد ۴ ۲۲۱ حقیقت الامر وعده سے موجود ہے۔ چوتھا مسئلہ آپ نے نبوت اور اسمۂ احمد کا پیش کیا ہے اور اس کے لئے اپنی کتب کا حوالہ دیا ہے اور ان کے جواب نہ ہونے کی شکایت کی ہے۔ آپ کی کتاب کا جواب خدا تعالیٰ کے فضل سے میری کتاب حقیقۃ النبوۃ میں پہلے سے موجود ہے اور بعض غیر احمدیوں نے بھی اس کا اقرار کیا ہے کہ آپ کی کتاب کا جواب اس میں پہلے ہے۔ باقی رہا یہ کہ اس پر جلد اول کیوں لکھا ہے۔ سو جلد اول سے تو صرف غیر احمدیوں کے نقطہ خیال کو مد نظر رکھ کر مزید تشریح کا کیا گیا تھا ورنہ اس کتاب میں آپ یہ لکھا ہوا بھی دیکھیں گے کہ اب اس کے بعد آپ کے مقابلہ میں کچھ اور لکھنے کی رکھنے کی مجھے ضرورت نہ ہوگا ہوگی۔ مگر اللہ تعالٰی نے چاہا تو آپ کے خیالات کی تردید مختلف طریق سے ہوتی رہے گی۔ آپ اس کی فکر نہ کریں۔ زیادہ فکر اپنے ایمان کی درستی اور خدا تعالیٰ سے صلح کرنے کی کریں کہ اس کے بغیر نجات نہیں۔ مسیح موعود کے درجہ کو آپ گھٹاتے ہیں یا ہیں یا نہیں یہ آپ کی تحریرات سے صاف ظاہر ہے اس پر ہے اس پر مجھے اس خط میں لکھنے کی ضرورت نہیں۔ عبدالحکیم کے خطوط اور آپ کی تحریرات کو بالمقابل رکھ کر دیکھا جائے تو بالکل ایک قلم کی لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں مگر اس بحث میں اس جگہ پڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس وقت تو میں آپ کو یہی نصیحت کر کے اس خط کو ختم کرتا ہوں کہ ریویو کی ایڈیٹری اور انجمن کی سیکرٹری شپ کی وجہ سے آپ کو جماعت میں ایک رسوخ حاصل تھا اور اس وجہ سے بعض لوگ اس رسوخ کے اثر سے آپ کے ساتھ حق کے قبول کرنے میں رکے ہوئے ہیں۔ آپ انہیں لوگوں کی جانوں پر رحم کر کے جن کی آپ سے حسن ظنی ان کی ہلاکت کا موجب ہوئی ہے اب اس طریق کو ترک کریں اور حق کو قبول کریں۔ عزت خدا کے آگے تذلل اور انکسار میں ہے ور نہ یاد نہ عجب اور استکبار میں۔ اپنی جان پر رحم کریں اور دوسروں سروں کو ہلاکت سے بچائیں رکھئے کہ قیامت کے دن ان سب لوگوں کا عذاب آپ کی گردن پر ہو گا ان میں سے ہر ایک فرد بھی ذمہ دار ہے مگر آپ سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں اور خدا کا غضب برداشت کرنے کی انسان میں طاقت نہیں خواہ وہ کتنا ہی بہادر ہو۔ پس اس آگ سے نہ کھیلیں کہ یہ آخر بھسم کر کے چھوڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے اور آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی آنکھیں کھولے۔ چونکہ میں آپ کی ہی ایک کتاب کا جواب لکھ رہا ہوں۔ اس لئے زیادہ لکھنے سے معذور ہوں۔ امید ہے کہ آپ اس کا انتظار کریں گے اور اس میں جو کچھ لکھا جاوے گا وہ آپ کی کتاب کا جواب بھی ہو گا اور کچھ زائد بھی ہو گا۔ اس پر غور کریں گے تو شاید اللہ تعالیٰ آپ