انوارالعلوم (جلد 4) — Page 218
انوار العلوم جلد ۴ ۲۱۸ حقیقت الامر شخص معصوم عن الخطاء ہونے کا مدعی ہے جو اپنے بعض عقائد کی غلطی کا اعتراف نہ کرے۔ مگر تعجب ہے کہ مجھے تو آپ بغیر غلطی کرنے کے غلطی کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اور خود ریویو کے مضامین میں اپنے موجودہ عقائد کے خلاف لکھنے کے باوجود اس وقت تک یہ جرأت نہیں کر سکے کہ ان مضامین کی غلطی کا اعلان کریں بلکہ اس مصیبت کو آنوں بہانوں سے ٹلانا چاہتے ہیں اور اس وقت یہ دلیل آپ کو بھول جاتی ہے کہ میں معصوم عن الخطاء نہیں۔ تیسرا امر جس کی طرف مجھے آپ توجہ دلاتے ہیں کفر و اسلام کا مسئلہ ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ امن کی راہ یہ ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھ لیں۔ میں کہتا ہوں کہ امن کی راہ یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کے فیصلہ کو تسلیم کرلیں۔ قرآن کریم کسی ایک نبی کے منکر کو بھی کافر کہتا ہے اور مرزا صاحب کو وہی خدا نبی کہتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا يَأَيُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَر (تذکرہ صفحہ ۷۴۶ ایڈیشن چہارم) اور دنیا میں ایک نبی آیا مگر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا" ( تذکرہ صفحہ ۱۰۴- ایڈیشن چہارم) اور آنحضرت ا بھی نبی کہتے ہیں۔ جیسا کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں فَيْرٌ غَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ ( مسلم كتاب الفتن واشراط الساعة باب ذكر الدجال وصفته و ما معه، یعنی اس وقت اللہ کا نبی عیسی اور اس کے ساتھی خدا سے دعا کریں گے۔ اور ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ آنے والے مسیح کو آپ نے نبی فرمایا ہے۔ پس امن کی راہ یہی ہے کہ اگر بفرض محال بقول آپ کے حضرت مسیح موعود کی تحریروں فیصلہ نہیں ہوتا تو تا تو پھر جیسا کہ آپ کو بھی : پ کو بھی عذر نہ ہو گا قرآن کریم کے فیصلہ پر اطمینان رکھیں کہ وہ ہلاکت سے بچائے گا۔ سے باقی رہا یہ امر کہ جنازہ کے متعلق حضرت مسیح موعود کا جو خط ملا تھا اس کے متعلق میں نے غور کیوں نہیں کیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خط حبی فی اللہ انی المکرم سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی لائے تھے اور آپ نے بیان کیا تھا کہ یہ خط سید میر حسن صاحب سیالکوٹی کے پاس تھا اور میں نے سنا تھا کہ سید امیر علی شاہ صاحب نے اس کی نقل لاہور بھیجنے کے لئے لی ہے۔ اس پر مجھے خیال آیا کہ میں بھی اس کی نقل لے جاؤں شاید ضرورت پڑے۔ چونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ میری شنید میں ہے میں یہ آیا کہ پیغام میں چھاپنے کے لئے یہ نقل کی گئی ہے۔ اس لئے میں نے زیادہ احتیاط اس کی حفاظت کی نہیں کی اور جلسہ کے دن تھے۔ ایک ایک دن میں سینکڑوں رقعے مجھے