انوارالعلوم (جلد 4) — Page 211
انوار العلوم جلد ۴ ۲۱۱ حقیقت الامر کہ آپ مہربانی فرما کر اپنے ہم خیالوں میں سے ان لوگوں کی ایک فہرست شائع کر دیں کہ جنہوں نے ہماری کتب کا مطالعہ کیا ہو۔ اور ہر ایک کے نام کے ساتھ لکھ دیں کہ اس نے فلاں فلاں کتاب یا رسالہ تمہارا پڑھا ہے اور میں اپنے مریدوں میں سے ایسے لوگوں کی ایک فہرست شائع کرادوں گا اگا جنہوں نے آپ کی کتب کا مطالعہ کیا ہے۔ ہا ہے۔ اور ان کے نام کے آگے ان کتب و رسالہ جات کی فہرست جو انہوں نے آپ کی طرف سے شائع ہونے والے لٹریچر میں سے پڑھے ہوں درج کر دوں گا۔ اس سے خود دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ کون لوگ بے تعصبی سے دوسرے کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اگر بارہ سال تک حضرت مسیح موعود اپنے دعوی کو خود نہ سمجھ سکے تو پھر اور کوئی آپ کے دعوی کو کس طرح سمجھ سکے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود پر کبھی بھی کوئی وقت نہیں آیا کہ آپ دعوی کو نہ سمجھ سکے ہوں۔ آپ شروع سے آخر تک اس مقام کو سمجھتے رہے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا ہے۔ ہاں صرف اس دعوئی کے نام میں آپ احتیاط کرتے رہے ہیں۔ یعنی آیا اس کا نام نبوت رکھا جاوے یا محد ثیت۔ اور جب تک اللہ تعالی کی متواتر وحی نے اس بات کی صراحت نہ کی آپ اس کا نام محد ثیت یا جزوی نبوت وغیرہ رکھتے رہے ہیں۔ لیکن بعد صراحت کے آپ اس امر پر قائم نہ رہے اور آپ نے اس مقام کا نام نبوت رکھ دیا۔ اور یہی بات ہے جو حضرت مسیح موعود خود حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں۔ اور اس بات میں آپ منفرد نہیں۔ پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہ معاملہ پیش آیا ہے۔ چنانچہ خود آنحضرت ا جو سید ولد آدم تھے ایک عرصہ دراز تک حضرت موسیٰ اور حضرت یونس پر اپنے آپ کو فضیلت دینے سے روکتے رہے۔ حالانکہ بعد میں آپ نے فرمایا کہ لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِى ى اليواقيت والجواهر جلد ۲ صفحه ۲۴ ۱۳) اور فرمایا اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ ادم (ترندی ترندی ابواب المناقب باب ما جاء في فضل النبي صلي الله علیه وسلم) پس اگر آپ ذرا بھی تدبر سے کام لیں تو ان دو نبیوں پر اپنے آپ کو فضیلت نہ دینے کا بھی وہی باعث تھا جو حضرت مسیح موعود کے لئے اپنے مقام کا نام نبوت نہ رکھنے کا باعث ہوا اور وہ لوگوں کے رائج الوقت خیالات کا حتی الوسع احترام کرنا اور دین کے معاملہ میں جلد بازی سے کام نہ لینا تھا۔ اور یہی وہ صفت ہے جو متقی اور غیر متقی میں تمیز کر دیتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود کی نسبت نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کئے گئے تھے مطبوعه مصر ١٣٢١ هـ )