انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 169

انوار العلوم جلد ۴ ۱۶۹ حقيقة الرؤيا کچھ دکھایا جاتا ہے وہ شیطانی کام ہے۔ (۲) پھر ان کے شیطانی ہونے کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ جو خواہیں آئندہ کے متعلق ہوتی ہیں ان میں سے اکثر غلط اور جھوٹی نکلتی ہیں۔ ہاں کوئی بچی بھی نکل آتی ہے۔ چوہدری فتح محمد صاحب نے بتایا کہ اس علم کے ماہروں نے پیش گوئیوں کی ایک بڑی کتاب شائع کی تھی جن میں ایک پیش گوئی یہ بھی تھی کہ ۱۹۱۵ء میں جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا اور قیصر جر من معزول ہو جائے گا۔ لیکن ان کی تمام کی تمام پیش گوئیاں جھوٹی نکلیں ۔ تو یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ شیطانی خواہیں تھیں۔ ان کو میں حدیث النفس کیوں نہیں کہتا۔ اس لئے کہ ان میں بعض باتیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ جن کی وجہ سے انہیں شیطانی کہنا ضروری ہے ان کی تفصیل کا اس وقت موقع نہیں ہے۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ بات ہے کہ ایسے لوگوں کو اکثر خواہیں ڈراؤنی ہی آتی ہیں۔ اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ڈراؤنی خواب شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ (بخاری كتاب التعمير باب الحلم من الشيفن، ان لوگوں میں سے ولیم ٹیکنن بڑا ماہر ہے۔ اس نے اس علم پر بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ وہ کہتا ہے میں نے تجربہ سے یہ بات معلوم کی ہے کہ ہمیں اکثر خواہیں ڈراؤنی ہی آتی ہیں ، معلوم نہیں اس کی کیا وجہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ شیطان کے پاس ڈرانے کے سوا اور رکھا ہی کیا ہے۔ انعام دینا تو اس کے اختیار میں نہیں۔ اس لئے جن سے اس کا تعلق ہوتا ہے انہیں ڈراتا رہتا ہے تاکہ وہ خوف کے مارے اس کے قابو میں رہیں۔ میری اس بات سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ انذاری خوا ہیں خدا کی طرف سے نہیں ہوتیں۔ ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ انبیاء کو جو انذاری الہامات ہوتے ہیں وہ نعوذ باللہ شیطان سے تعلق کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء کو اکثر الهامات خوشخبری کے ہوتے ہیں اور بہت کم انذاری ۔ لیکن ان لوگوں کو کثرت سے ڈرانے والی خواہیں آتی ہیں اور بہت کم خوشخبری والی۔ اور ان میں سے اکثر غلط ہوتی ہیں اور کوئی ایک آدھ کبھی پوری ہو جاتی ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ان کی تمام شیطانی خواب کے پورا ہونے کی وجہ کی تمام خواہیں شیطانی ہوتی ہیں۔ تو ان میں سے کبھی کوئی پوری کیوں ہو جاتی ہے۔ کیا شیطان کو بھی کچھ علم غیب ہے کہ ایسا ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قیاسی بات تو کبھی انسان کی بھی پوری ہو جاتی ہے۔ پھر شیطان کا کوئی نہ کوئی