انوارالعلوم (جلد 4) — Page 157
انوار العلوم جلد ۴ ۱۵۷ حقيقته الرؤيا خوابوں کا آنا مادی اسباب کا نتیجہ ہے مثلاً :- (1) جن لوگوں کے معدے اور دل میں کوئی خرابی ہو گی انہیں اڑنے یا اوپر سے نیچے گرنے کی خواہیں آئیں گی۔ اب اگر کسی کو اس قسم کی خواب آئے تو معدہ کے نقص کی وجہ سے آئے گی۔ لیکن ایک معبر اس سے یہ نتیجہ نکالے گا کہ اوپر سے نیچے گرنا کسی ابتلاء کے آنے کی علامت ہے۔ حالانکہ ابتلاء کیا آتا ہے وہ تو معدہ کے نقص کی علامت ہے۔ (۲) اسی طرح وہ کہتے ہیں اگر کسی کو بد ہضمی کی شکایت ہو تو وہ سونے کی حالت میں دیکھتا ہے کہ میرے سامنے آگ لگی ہوئی ہے اور میں پیچھے بھاگ نہیں سکتا۔ یہ سن کر معبر تو کہے گا کہ تم پر کوئی مصیبت آنے والی ہے کسی ابتلاء میں بھنے والے ہو۔ لیکن ایک ڈاکٹر اسے بیماری سمجھے گا۔ (۳) پھر وہ کہتے ہیں تجربہ کرکے دیکھ لو۔ ایک سوئے ہوئے آدمی کے پاؤں کو سلا دو۔ جب وہ اٹھے تو اس سے پوچھو کہ کیا تم نے کوئی خواب دیکھی ہے۔ وہ کہے گا کہ میں نے دیکھا ہے پانی میں تیر رہا ہوں۔ یہ بات اگر کسی معبر کے سامنے پیش کی جائے گی تو وہ کہے گا کہ تمہیں کوئی بڑی کامیابی حاصل ہونے والی ہے۔ حالانکہ یہ اس کے پاؤں کے سونے کا نتیجہ تھا۔ (۴) اسی طرح اگر سونے کی حالت میں رضائی یا کسی اور چیز کا ایسا بوجھ سینہ پر پڑ جائے جس سے سانس رک جائے تو خواب میں یہ نظر آئے گا کہ کوئی بڑا بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے جا رہا ہوں۔ (۵) یا اگر سردی کے موسم میں اوپر سے کپڑا اتر جائے تو سونے والا دیکھے گا کہ میں بالکل ننگا ہو گیا ہوں۔ ان باتوں کا تجربہ کر کے دیکھ لو بالکل درست اور صحیح نکلیں گی۔ چنانچہ یورپ میں خوابوں کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن بنا تھا۔ اس نے مختلف حالتیں پیدا کر کے خوابیں دکھلائی تھیں۔ (۶) پھر یہ تو تجربہ شدہ بات ہے کہ اگر سوتے ہوئے کان میں چیونٹی گھس جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا تو ہیں چل رہی ہیں۔ طبل بیچ رہے ہیں۔ بڑا شور و شر ہو رہا ہے۔ مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ کان میں چیونٹی گھسی ہوئی تھی۔ (۷) اگر پانی کا چھینٹا سوتے ہوئے انسان کے بدن پر گر جائے تو وہ دیکھتا ہے کہ بارش ہو رہی ہے۔