انوارالعلوم (جلد 4) — Page 152
انوار العلوم جلد ۴ ۱۵۲ حقيقة الرؤيا الہام کے ماننے والے اپنا عقیدہ اور خیال میں پیش کرتے ہیں۔ الہام ، کشف رویا کے مخالفین اس عقیدہ کے مخالف چار قسم کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ جو کہتے ہیں کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ حواس باطنی کے ذریعہ جو چیز دکھائی یا سنائی دیتی ہے یا زبان پر جاری ہو جاتی ہے وہ کسی اور ہستی کی طرف سے بطور القاء کے ہوتا ہے غلط ہے۔ نہ کوئی الہام ہے نہ وحی بلکہ محض خیالات ہیں جو ایک بیماری کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جسم کے بعض حصوں میں نقص پیدا ہونے کی وجہ سے اس قسم کے خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں یا آوازیں سنائی دینی شروع ہو جاتی ہیں اور غلطی سے سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ کوئی روحانی تصرف ہے۔ اب اگر ان لوگوں کی بات درست ثابت ہو جائے تو سارے مذاہب باطل ہو جاتے ہیں اور کسی کا بھی کچھ باقی نہیں رہتا اور بجائے اس کے کہ لوگ نبیوں کی اتباع کریں ان کو بیمار اور مریض سمجھنا پڑے گا اور نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کی عزت کرنے کی بجائے انہیں طبیبیوں اور ڈاکٹروں کے پاس علاج کرانے کے لئے جانا ہو گا تو ان لوگوں کی بات صحیح ثابت ہو جانے پر تمام مذاہب باطل ہو جاتے ہیں۔ ہیں اور دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو اس بات کے تو قائل ہیں کہ الہام اور رویا ہوتے۔ ان کے ذریعہ سے کچی اور عمدہ باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔ نیز اس ذریعہ سے بڑے بڑے اعلیٰ درجہ کے دلائل اور براہین سے آگاہی ہو جاتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک کسی عمل ہے اور ہر مذہب و ملت کا انسان اسے سیکھ لیتا ہے۔ اس گروہ کو انگریزی میں سپر چولسٹ کہتے ہیں اور اسی کی ایک شاخ تھیا سوفیکل سوسائٹی ہے۔ اس گروہ کا دعوی ہے کہ الہام اور وحی کسی بالا ہستی کی طرف سے نہیں ہو تا بلکہ انسان کے اندر ہی کچھ باطنی قومی ایسے ہیں کہ ان کو طاقت دینے اور مشق کرنے سے انسان ترقی کر کے الہام اور وحی حاصل کر سکتا ہے اور خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ایسا کرنے سے اسے الہام ہونے لگ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خلا میں ہماری ہر ایک حرکت اس طرح محفوظ اور نقش ہو جاتی ہے جس طرح فونوگراف کے ریکارڈ پر الفاظ محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اور جس طرح فونوگراف کی سوئی ان الفاظ کو سنا دیتی ہے اسی طرح انسانی دماغ میں ایسی طاقتیں ہیں جو سوئی کا کام دیتی ہیں اور بظاہر پوشیدہ الفاظ کو سنا دیتی ہیں۔ اس میں خدا کا کوئی دخل نہیں