انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 139

انوار العلوم جلد ۴ ۱۳۹ علم حاصل کرو اور بار بار آئیں اور آکر میرے پاس بیٹھیں اور مجھ سے اپنے آپ کو واقف کرائیں جو مشکل سوالات پیش آئیں انہیں پوچھیں ہاں قرآن کریم نے جو ادب سکھایا ہے اس کو مد نظر رکھیں کہ خدا تعالیٰ بیہودہ اور لغو سوالات کو جن کا دین سے کوئی تعلق نہ ہو جائز نہیں رکھتا اور ایسے سوالات کرنے والے انسان کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی اس لئے تم وہی سوال کرو جس کا حل کرنا تمہارے لئے مشکل ہو۔ یا جو تمہارے دل میں کھٹکتا ہو نہ کہ سوال کرنے کی خاطر سوال کرو کیونکہ ایسا کرنا نور معرفت مٹا دیتا ہے اور دین سے دور پھینک دیتا ہے۔ دوسرا طریق علم دین سیکھنے کا کا یہ ہے کہ بعض دوسرے مختلف مقامات میں دوسرا طریق دور قرآن کریم کا درس دیتے ہیں ان کے درس کو باقاعدہ طور پر سنو اور ان سے قرآن کریم سیکھو۔ میں نے شکایت سنی ہے کہ بعض جگہ کے لوگ درس میں شامل ہونے میں ستی کرتے ہیں ایسا نہیں چاہئے۔ خدا تعالیٰ نے ان درس دینے والوں کو جتنا علم دیا ہے اتنے سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں مزا نہیں آتا اس لئے درس میں شامل نہیں ہوتے۔ میں کہتا ہوں وہ مزے کیلئے قرآن سنتے ہیں یا ایمان کیلئے اگر محض مزے کیلئے سیکھتے ہیں تو ان کا سیکھنا نہ سیکھنے سے برا ہے لیکن اگر ایمان کیلئے سکھتے ہیں تو خواہ ابتداء میں انہیں مزا نہ بھی آئے تو بھی سستی نہ کرنی چاہئے آہستہ آہستہ انہیں ایسا مزا آنے لگ جائے گا کہ جو انہیں پہلے کبھی آیا ہی نہ ہوگا۔ پس ان مقامات پر جہاں درس ہوتا ہے مثلاً لاہور امرتسر، پشاور، فیروز پور ، گوجرانوالہ، شملہ حیدر آباد دکن وہاں کے دوستوں کو چاہئے کہ کوشش کر کے شامل ہوں۔ اگر انہیں ایک نکتہ مل گیا تو بھی کوئی نقصان نہیں ہو گا بلکہ فائدہ ہی ہوگا اور جن مقامات پر درس نہیں ہوتے وہاں کے دوستوں کو اس کا انتظام کرنا چاہئے۔ تیسرا طریق وہ ہے جس کا ابھی تک بعض مشکلات کی وجہ سے انتظام نہیں ہو سکا تیسرا طریق لیکن اب خدا کے فضل سے کسی حد تک انتظام ہوگیا ہے وہ اسباق القرآن کا طریق ہے۔ بہت سے سبق تیار ہو چکے ہیں اور انشاء اللہ جنوری سے شائع ہونے شروع ہو جائیں گے جو دوست ان کے ذریعہ علم حاصل کرنا چاہیں وہ اپنا نام دفتر ترقی اسلام میں لکھا دیں ان کو سبق چھپنے پر بھیج دیئے جایا کریں گے۔ چوتھا طریق چوتھا طریق علم حاصل کرنے کا ایسا طریق ہے جو بہت ہی مفید ہے اور وہ یہ کہ جتنا علم خود آتا ہے وہ اپنے بیوی بچوں کو سکھایا جائے۔ کچھ لوگ تجربہ کر کے دیکھ