انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 125

انوار العلوم جلد ۴ ۱۲۵ علم حاصل کرو کرنے کی پر زور کوشش کریں خواہ دوسروں سے سن سن کر یا پوچھ پوچھ کر۔ خدا تعالیٰ کو اس سے غرض نہیں کہ کس طرح کوئی علم دین حاصل کرتا ہے اگر لکھنے پڑھنے تک ہی ان علوم کا حاصل ہونا محدود ہوتا تو خدا تعالی آنحضرت اللہ کو بھی لکھنا پڑھنا ضرور سکھلاتا مگر اس نے رسول کریم اللہ کو لکھنے پڑھنے کی محنت سے بچا کر اور تمام عالموں سے بڑھ کر عالم بنا کر بتادیا کہ میرے تک پہنچنے اور میرا قرب حاصل کرنے کا علم ایسا ہے کہ اگر تم دنیا کا کوئی بھی علم نہ جانو تو بھی اسے سیکھ سکتے ہو۔ تو اس علم کے سیکھنے کیلئے ضروری نہیں کہ لکھنا پڑھنا بھی سیکھا جائے۔ دوسروں سے سن کر اور پوچھ کر بھی یہ علم سیکھا جاسکتا ہے۔ پس آپ لوگ اس کے سیکھنے کی پوری پوری کوشش کریں کہ اس کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔ علم دین حاصل کرنے کی کوشش کرو اس وقت میں آپ لوگوں کی توجہ اس طرف پھیرنی چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت ایک تبلیغی جماعت ہے۔ ہم ساری دنیا کے لوگوں کو یہ کہتے ہیں۔ آؤ لوگو کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے مگر سوال یہ ہے کہ جب ہم جانتے ہیں کہ نورِ خدا لوگوں کو پہنچانا ہمارا فرض ہے تو خود اس کے حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ اگر واقعہ میں دین اسلام رسول کریم ا اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم نور ہے اور یقینا نور ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہر ایک احمدی اس نور سے منور ہونے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس میں سستی کرنا بتلاتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اس پر کامل یقین نہیں ہے۔ دیکھو اگر کھانا موجود ہو اور کسی کو پورا یقین ہو کہ جس راستہ پر میں چلنے لگا ہوں اس میں ایک بڑا جنگل آنے والا ہے جس میں کھانے کی کوئی چیز نہ مل سکے گی اور اگر میرے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ ہوئی تو میں ہلاک ہو جاؤں گا تو وہ ضرور اپنے ساتھ کھانا لے لے گا۔ پس جب جسم کیلئے ایسی احتیاط کی جاتی ہے تو جس کو یہ یقین ہو کہ اسلام کی تعلیم ایک ایسا نور ہے کہ جس کے بغیر زندگی محال ہے تو وہ اس کے حاصل کرنے میں کب سستی کرے گا اس لئے جو دوست اس وقت تک اس طرف سے غافل ہوں انہیں جلد فکر کرنی چاہئے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ مجھ پر کب موت آئے گی اور کب مجھے اس دنیا کو چھوڑ کر خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا اس لئے آج ہی سے ہر ایک کو عہد کر لینا چاہئے کہ اب میں ونا