انوارالعلوم (جلد 4) — Page 113
انوار العلوم جلد ۴ ۱۱۳ علم حاصل کرد جس بات کے بیان کرنے کا میں نے کل ارادہ کیا ہے میرے نزدیک وہ بہت اہم اور ضروری ہے۔ گو اس کے متعلق حضرت مسیح موعود نے بہت کچھ لکھا ہے مگر پھر بھی اس کے دہرانے کی ضرورت ہے اور اس لئے ضرورت ہے کہ ہماری جماعت نے ابھی تک اسے سمجھا نہیں۔ اس لئے جو لوگ اسے غور سے سنیں گے ان کیلئے بہت بابرکت ہوگی اور اس سے بہت سے اندرونی اور بیرونی فتنوں کی اصلاح ہو جائے گی اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی ۔ لیکن جو بات میں اس وقت بیان کرنے لگا ہوں اگر آپ لوگ اس کو بھی مان لیں گے تو میں سمجھوں گا کہ مجھے آدھی کامیابی دنیا میں حاصل ہو گئی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جب میں سناؤں گا تو اکثر لوگ کہیں گے کہ یہ کونسی بڑی بات ہے ہم تو پہلے ہی اس کو جانتے اور مانتے ہیں لیکن صرف لفظی مانا کچھ نہیں ہوتا ماننا عملی ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ایک مثل ہے "سوگز واروں ایک گز نہ پھاڑوں"۔ وارنے کو تو سو گز وار دوں لیکن اگر مانگو تو ایک گز بھی پھاڑ کر نہ دوں۔ تو صرف زبانی کہہ دینا نہ تو اللہ کو خوش کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے انسان کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے اس لئے اگر آپ لوگ اس طریق سے مان گئے جو ماننے کا حق ہے تو میں سمجھوں گا کہ مجھے آدھی کامیابی حاصل ہو گئی ہے اور میرا آدھا کام باقی ہے جو اللہ تعالی توفیق دے گا تو پھر سہی۔ تحصیل علم پر کیوں زور دیا جاتا ہے میں نے اپنی کئی گذشتہ تقریروں میں اس امر پر بہت زور دیا ہے اور اب پھر اسی پر زور دیتا ہوں کہ علم ایک بہت اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔ میری خلافت کے زمانہ میں جس قدر بھی جلسے ہوئے ہیں قریب قریب تمام ہی جلسوں میں میں نے علم کو ایک اعلیٰ درجہ کی شئے قرار دینے اور اس کے سیکھنے کی طرف توجہ دلانے پر زور دیا ہے اس لئے شاید بعض لوگ کہیں کہ ہر دفعہ یہی بات سناتا ہوں۔ میں کہتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ مجھے پچاس ساٹھ سال اور بھی زندگی دے تو میں یہی سناتا رہوں گا اور جب تک ہماری جماعت کا ایک انسان بھی اس کو چھوڑ رہا ہوگا اس وقت تک چپ نہ ہوں گا کیونکہ یہ بات ہی ایسی ہے۔ علم کوئی ایسی معمولی چیز نہیں کہ ایک دفعہ اس کے حاصل کرنے کی تاکید کرکے پھر چھوڑ دیا جائے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ بھی ایک دفعہ کہہ کر چھوڑ نہیں دیتا بلکہ بار بار نبی اور رسول بھیجتا ہی رہتا ہے۔ قرآن کریم میں ایک ہی جگہ آٹھ دس انبیاء کا ذکر کرتا ہے جن میں سے ہر ایک آکر یہی کہتا ہے کہ خدا ایک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ان میں سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ تو مجھ سے پہلے نے بھی