انوارالعلوم (جلد 4) — Page 100
انوار العلوم جلد ۴ ١٠٠ علم حاصل کرو آئی کہ ناک سے ناک ملا کر کودنے کی جو شرط لگائی گئی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اور کوئی وجہ ہو یا نہ ہو یہ ضرور ہے کہ ان میں خشیت اللہ نہیں رہی۔ رسول کریم اللہ کے وقت ایک واقعہ ہوا تھا۔ آپ نے ایک لشکر کو ایک افسر کے ماتحت بھیجا تھا۔ ایک مقام پر اس نے لوگوں کو آگ میں کودنے کا حکم دیا کچھ لوگ تو اس کیلئے تیار ہو گئے اور باقیوں نے کہا کہ یہ حکم شریعت کے خلاف ہے اس لئے ہم اس کی تعمیل کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ جب لشکر واپس آیا تو رسول کریم اللہ کے حضور یہ بات پیش کی گئی۔ آپ نے فرمایا اگر تم اس آگ میں کودتے تو سیدھے جہنم میں جاتے۔ اب جو لوگ ایک اسی قسم کی بات پیش کرتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہے ان کی قلبی حالت کا حال معلوم ہو رہا ہے کہ ان میں خشیت اللہ نہیں رہی۔ وہ دین سے نہیں اور قرآن کریم سے تمسخر کرتے ہیں اور آنحضرت ا کے لائے ہوئے دین کو کھیل اور تماشہ بنا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی پیغامیوں کو دیکھ لو۔ وہ مباہلہ کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ دین کے ساتھ نہیں کی جارہی ہے اور اسلام کو ایک کھیل بنالیا گیا ہے۔ گویا قرآن کریم میں جو مباہلہ کی تعلیم دی گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے حق و باطل میں فیصلہ کا جو یہ ایک طریق مقرر کیا ہے وہ کھیل ہے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں۔ کیا خدا تعالی دلائل نہیں بیان کر سکتا تھا کہ اس نے مباہلہ کا طریق رکھا ہے۔ یا رسول کریم ﷺ کو تم سے کم ودلائل آتے تھے کہ ان کو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر یہ لوگ دلائل سے نہیں مانتے تو ان کو کہو کہ آؤ مباہلہ کرلو۔ باوجود قرآن کریم میں دلائل اور بینات بیان کرنے کے مباہلہ کو بھی فیصلہ کا ایک طریق قرار دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک موقع ایسا بھی ہوتا ہے جب دلائل سے فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ پس ہم نے بھی جب دلائل کے ذریعہ فیصلہ ہوتا نہ دیکھا تو کہا آؤ مباہلہ کرلو۔ یہ کھیل اور تماشہ کی کونسی بات ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں گروہوں میں خشیت اللہ نہیں رہی اور جب ان میں خشیت اللہ نہیں رہی تو ثابت ہو گیا کہ وہ حق پر بھی نہیں ہیں۔ ہماری صداقت کا ایک اور امتیازی نشان دوسری امتیازی بات راست باز اور جھوٹے گروہ میں دیکھنے والی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ جو جماعت حق پر ہو اس کو دوسروں پر کامیابی عطا کرتا اور اسے دن بدن بڑھاتا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالی فرماتا ہے۔ اَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا