انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 91

انوار العلوم جلد ۴ ۹۱ علم حاصل کرد پہنچنی شروع ہو جائے گی۔ وہ بے صبری کرکے اُٹھ نہ کھڑے ہوں کیونکہ بے صبری کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ بتاؤ جب عرب کے ریگستان سے محمد ال کی آواز ابتداء میں اُٹھی تو کیا اس وقت ہندوستان پہنچ گئی تھی؟ نہیں۔ لیکن جب اس میں گونج پیدا ہوئی تو دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پہنچ گئی اور خواب غفلت میں سونے والوں کو جگا کر کھڑا کر دیا۔ دنیا میں بہت سی قومیں ایسی تھیں جو ہزاروں سال سے غفلت کی نیند میں پڑی سوتی تھیں اور ہزاروں نبی ان کو جگا نہ سکے تھے لیکن محمد اللہ نے ان کو ایسا جگایا کہ پھر سو نہ سکیں۔ حتی کہ آپ کی دشمن اور خون کی پیاسی قو میں بھی نہ سو سکیں۔ گو انہوں نے آ۔ آپ کو قبول نہ کیا اور اس نور اور روشنی سے محروم رہیں جو آپ لائے تھے لیکن آپ کی بعثت کے بعد چین سے سونا ان کو بھی نصیب نہ ہوا۔ انہیں ایک ایسی آگ لگ گئی جسے وہ کسی طرح بھی بجھا نہ سکیں اور جنہوں نے صبر اور تحمل سے کام لے کر آپ کی آواز کو سنا اور اس کو قبول کیا وہ تو ایسے جاگے کہ دنیا کے جگانے کا موجب ہو گئے۔ پس آپ لوگ صبر سے بیٹھے رہیں اور امید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آواز اونچی ہو جائے گی اور آپ کو بخوبی سنائی دینے لگ جائے گی۔ عام باتیں آب کی دفعہ عورتوں کی طرف سے ایک اور اعتراض ہوا ہے اور خوشی کی بات ہے کہ انہیں بھی ایسی باتیں سوجھی ہیں کیونکہ یہ زندگی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مردوں میں تو وعظ کرتے ہیں لیکن ہمیں جو کچھ سنایا جاتا ہے وہ عام باتیں ہوتی ہیں۔ اگرچہ میں نے انہیں باتوں باتوں میں ہی بہت کچھ سنا دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ ابھی تم اسی کی مستحق ہو لیکن میرا طریق یہ ہے اور جہاں تک میں نے غور کیا ہے قرآن کریم اور احادیث سے ہی معلوم ہوا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی میں نے یہی سیکھا ہے کہ وہ کلام جو ایسے طریق اور طرز سے شروع ہو جس میں ابتدائی حالات کو مد نظر رکھا جائے وہی بابرکت اور مفید ہوتا ہے۔ چنانچہ میں نے گذشتہ تمام جلسوں میں یہی طریق رکھا ہے کہ پہلی تقریر تو ایسی باتوں کے متعلق ہوتی ہے جو عام طور پر لوگوں کے حالات اور معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ کوئی خاص مضمون نہیں ہوتا اور دوسری تقریر کسی اہم مسئلہ پر ہوتی ہے۔ یہ شکایت تو عورتوں نے کی ہے کہ ہمیں باتیں ہی سنائی جاتی ہیں ہمارے لئے کوئی مضمون نہیں بیان کیا جاتا لیکن میرا ایک لیکچر مردوں میں بھی عام باتوں پر ہی ہوتا ہے اور یہ ضروری