انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 70

انوار العلوم جلد ۳۰ فاروق کے فرائض یورپ تو اس نکتہ کا ایسا شیدا ہے کہ وہاں ہر ایک دکان کا کچھ نام رکھا جاتا ہے نام مطابق کام اور اکثر کوشش کی جاتی ہے کہ اس نام میں ہی اس دکان کا کام بھی بیان ہو جائے اور یہ کبھی نہ ہو گا کہ ایک دکان کے نام میں تو یہ ظاہر کیا جائے کہ اس میں جوتیوں کی تجارت ہوتی ہے اور در حقیقت وہاں ٹوپیوں کی تجارت ہوتی ہو غرض نام کام بتانے کے لئے رکھے جاتے ہیں اور ان ناموں کی پابندی کی جاتی ہے اور جب کسی دکان کا کام بدلنا ہوتا ہے تو پہلے اس کا نام بدلتے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جہاں انسانوں میں اس بات کا خیال ہے کہ وہ اپنی کام خلاف نام دکان یا اپنے کارخانہ کے نام کے مطابق اپنے کاموں کو رکھتے ہیں وہاں اپنے ناموں کے متعلق ان کو اس قدر فکر نہیں ہوتی کہ ہمارا نام کیا ہے اور ہمارے کام کیا ہیں ایک دکان کا نام اگر کتب فروشی کی دکان رکھا جاتا ہے تو اس بات کی پابندی کی جاتی ہے کہ وہاں کتابیں ہی فروخت ہوں اور اگر ایک کارخانہ کا نام فلور ملز ہوتا ہے تو آٹا پیسنے کا ہی کام وہاں کیا جاتا ہے لیکن کتنے عبدالرحمن ہیں جو درحقیقت عبدالشیطان ہیں؟ کتنے عبدالغنی ہیں جو حرص و آز میں مبتلا ہیں ؟ اور کتنے دارا شکوہ ہیں جن کی راتیں جھونپڑیوں میں اور دن کھلیانوں میں کتے ہیں ؟ اور کتنے آسمان جاہ ہیں جن کو سر چھپانے کے لئے زمین کی کوئی غار بھی نصیب نہیں؟ پھر کتنے اکرام الدین ہیں کہ ان کا وجود دین کے لئے بدنامی اور ذلت کا باعث ہو رہا ہے؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ لوگ کتنے ہیں؟ نہیں اور ہرگز نہیں کیونکہ ان کا گنا نا ممکن ہے دنیا کے پردہ پر کوئی بستی کوئی قصبہ کوئی شہر کوئی ملک ایسا نہیں جو ان نمونوں سے خالی ہو۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کوئی جگہ ایسی نہیں جو ان نمونوں سے پر نہ ہو مگر باوجود اس کے وہی انسان جو اپنے نام کی عزت نہیں کرتا اور اس کے مطابق اپنے کاموں کو کرنے کی فکر نہیں کرتا اس کا تمام تر زور یہ ہوتا ہے کہ اس کی دکان یا اس کے کارخانہ کا جو نام ہے اس کے مطابق اس کا کام بھی ہو کیا یہ ایک عجیب بات نہیں؟ لیکن کتنے آدمی ہیں جن کی توجہ اس طرف پھری ہو اور انہیں اس دل شکن تماشہ کا علم بھی ہوا ہو جیسے تماشہ کرنے والے انسان اور نام اور لباس پہن کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اسی طرح اکثر انسان اپنے حقیقی ناموں کو بدل بدل کر اپنے ہم جنسوں کے سامنے آتے ہیں لوگ اپنے روپیہ کو ضائع کر کے تھیٹروں میں اپنے نام بدلنے والوں کا تماشہ دیکھنے جاتے ہیں لیکن نہیں سمجھتے کہ یہ تماشہ تو ہر گھر میں جاری ہے اور رات اور دن ہو رہا ہے اور پھر