انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 61

انوار العلوم جلد ۳۰ 41 پیغام مسیح موعود زخم لگے گا کہ جس کو کوئی مرہم اچھا نہیں کر سکے گی اور مسلمانوں کو خطرناک نقصان پہنچے گا۔ غرض سخت کلامی اور دوسرے مذاہب اور ان کے بزرگوں کو گالیاں دینا یا ان کی عیب جوئی کرنا ایک ایسا خطرناک کام ہے کہ جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہو سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو عادت اس وقت ہندوستان کے لوگوں میں پڑ چکی ہے اس کو دور کیونکر کیا جائے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یکدفعہ تو اس کام کا ہونا مشکل ہے۔ لیکن مشکل کام سے گھبرانا بھی انسان کا کام نہیں۔ اس لئے میرے خیال میں سردست اس مدعا کو پورا کرنے کے لئے ایک مذہبی کا نفرنس کی جائے جس کے اجلاس سال میں ایک یا دو دفعہ ہوا کریں۔ ان اجلاسوں میں مختلف مذاہب کے پیرووں کو اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے بلایا جائے۔ اور دوسرے مذاہب پر صراحتاً یا کنایاً حملہ کرنے کی ہرگز اجازت نہ ہو ۔ بلکہ ہر ایک مقرر اپنی تقریر میں مقرر کردہ مضامین کے متعلق صرف وہ تعلیم پیش کرے جو اس کے مذہب نے دی ہے یا اس پر جو اعتراض پڑ سکتے ہوں ان کا جواب دے دے۔ اس کو یہ اجازت نہ ہو کہ دوسرے مذاہب پر حملہ کرے یا ان کے بزرگوں کو برا بھلا کیے۔ یہ کوشش نہ صرف مختلف مذاہب کے پیرووں کے لئے موجب برکت ہو گی بلکہ گورنمنٹ برطانیہ کی بھی ایک خدمت ہوگی کیونکہ ملک میں امن ہو تو گورنمنٹ بھی آزادی سب سے زیادہ کے ساتھ اپنی اصلاحی تدابیر پر عمل کر سکتی ہے اور ملک میں فساد گورنمنٹ کے لئے سب ۔ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ پس ایسی کوشش نہ صرف ملک کی خدمت ہے بلکہ گورنمنٹ کی بھی خدمت ہے۔ اور میرے نزدیک وہ سراسر غلطی پر ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کی کامیابی مختلف اقوام کے اختلاف میں ہے۔ نہ یہ خیال درست ہے اور نہ گورنمنٹ برطانیہ کا طریق عمل اس کی تائید کرتا ہے اور نہ عقل اس کی تائید کرتی ہے۔ پس اس کام کو جس قدر جلد ہو سکے شروع کر دیا جائے۔ اور جب یہ کام شروع ہو جائے گا تو امید ہے کہ لوگ آہستہ آہستہ خود اس طریق کی خوبی کے قائل ہو جائیں گے ۔ اور اگر پہلے ہمارے ساتھ شامل نہ ہوتے تھے تو بعد میں ہو جائیں گے۔ بے شک اس کام کے راستہ میں بہت سی تکالیف اور مشکلیں ہیں لیکن کونسا کام ہے جس کے راستہ میں تکالیف نہیں ہوتیں۔ ابتداء بے شک بعض لوگ مخالفت کریں گے لیکن آخر کار اس میں ضرور کامیابی ہوگی۔ کیونکہ جب تجربہ سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ طریق خیرو برکت کا طریق ہے تو جو لوگ اس کے مخالف ہوں گے وہ بھی اسے ضرور قبول کریں گے۔ کیونکہ کون ہے جو اپنے فائدہ کو معلوم کر کے پھر بھی اسکے حاصل کرنے سے دریغ