انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 56

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۶ پیغام مسیح موعود نہیں مانتے کہ اگر کوئی سبزی کے مقابلہ میں گوشت کو ادنی قرار دے تو وہ خدا کے حضور قابل سرزنش اور لائق عذاب سمجھا جائے۔ پس یہاں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چونکہ انہوں نے اعلیٰ کو ادنی پر قربان کرنا چاہا۔ اس لئے ہم نے کہا چلے جاؤ کسی شہر میں اس میں تمہیں جو مانگتے ہو مل جائے گا۔ اور ا اور ان پر ذلت اور مسکنت ڈالی گئی اور وہ اللہ کا کا غضب لے کر چلے گئے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ ان کو شام کی سلطنت دینے کا وعدہ تھا اور جنگل میں انہیں اس لئے رکھا گیا تھا کہ ان کی دنائت دور ہو کر اس قابل ہو جائیں کہ حکومت کر سکیں۔ اور طبیعت میں جرأت آزادی اور بلند حوصلگی پیدا ہو جائے لیکن انہوں نے حکومت کی بجائے سبزیوں اور ترکاریوں یعنی زراعت پیشہ کو پسند کیا اور حکومت کی بے قدری کی اس لئے مورد عتاب ہو گئے اور ان پر عذاب نازل ہوا۔ اور اس ادنی شے کی طرف ان کی توجہ پھر جانے کی یہ وجہ تھی کہ انہیں اللہ کی آیات پر ایمان نہ تھا اور یقین نہ آتا تھا کہ حضرت موسیٰ کا وعدہ سچا ہو گا اور اس کمی ایمان کا باعث ان کا نبیوں سے بلا وجہ جھگڑنا تھا اور نبیوں کا مقابلہ کرنے کا باعث ان کی بدیان اور شرارتیں تھیں کہ انبیاء ان سے ان کو روکتے تھے اور وہ باز آنا نہ چاہتے تھے۔ اس آیت سے خوب واضح طور سے معلوم ہو جاتا ہے کہ نبیوں کی بعثت کیسے وقت میں ہوتی ہے اور وہ کس طرح لوگوں کے حوصلوں کو بلند کرنا چاہتے ہیں۔ اور دنائت سے نکال کر اعلیٰ اخلاق کی طرف لے جاتے ہیں اور جو نبی کو چھوڑتے ہیں وہ دنائت اور کمینگی کی طرف جھکتے ہیں۔ حتی کہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم پر کمال فضل ہو سکتا ہے ؟ میں نے ابھی یہ آیت پڑھی ہے کہ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا - (الجمعه ) وہی خدا ہے جس نے امیوں میں رسول بھیجا۔ اور انہی میں سے بھیجا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو حیرت اور تعجب ہوا کہ بھلا ہم میں سے کوئی رسول ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں ہم تو امی ہیں۔ لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے امیوں سے ہی ایک کو نبی بنا دیا ۔ اسی طرح جب یوسف علیہ السلام فوت ہو گئے تو لوگوں نے کہا کہ اب کوئی نبی کہاں سے آئے گا یعنی اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔ لیکن یہ بات کم حوصلگی اور دنائت سے پیدا ہوتی ہے اور پھر اس سے آپس میں لڑائی اور فساد شروع ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے لوگوں کے تعلق قطع ہو جاتے ہیں۔ اس زمانہ میں بھی چونکہ لوگوں کی یہی حالت ہو گئی تھی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی لئے آئے اور انہوں نے آکر پکارا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ خدا سے تمہارا تعلق پیدا کراؤں اور تم میں صلح و آشتی اور محبت پیدا :