انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 54

انوار العلوم جلد - ۳ ۵۴ پیغام مسیح موعود کام یہ ہو کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِكَ تیری طرف سے جو اسے و سے جو اسے دلائل میں انہیں سنائے وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے۔ وَيُزَكِّيهِمْ اور انہیں پاک کرے إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ( البقره : (۱۳۰) بیشک تو بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔ پس یہ نبیوں کے کام ہیں۔ جس طرح نبی کی بعثت کا زمانہ وہ ہوتا ہے جس میں دنیا دکھوں اور مصیبتوں میں پڑی ہوتی ہے اسی طرح نبی کی آمد کا وہ زمانہ ہوتا ہے جس میں لوگ خدا تعالٰی سے قطع تعلق کر چکے ہوتے ہیں۔ اور آپس میں لڑائی جھگڑے شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ صلح اور امن اور خدا پرستی کے زمانہ میں کوئی نبی آیا ہو ۔ لیکن جب لڑائی فتنہ اور گند بڑھ جائے تو ضرور ہے کہ اس وقت نبی آئے اور اس فتنہ اور گند کو دور کرے۔ جھگڑے اور فساد کے متعلق یہ بات خوب یاد رکھو کہ لوگوں کے لڑائی جھگڑے کا سبب ان کی وجہ وثائت اور کم حوصلگی ہوتی ہے۔ لوگ اپنی طاقتوں کو بھلا دیتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے لگتے ہیں جن لوگوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں وہ ذرا ذراسی بات پر نہیں لڑتے اور جن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں ان کا خدا تعالیٰ سے بھی بڑا تعلق ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کی نسبت جن کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں فرماتا ہے بَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولاً (بنی اسرائیل : (۹۵) گویا انہوں نے انسان کو ایسا ذلیل اور حقیر سمجھ رکھا ہے کہ کہتے ہیں بھلا انسان خدا کا رسول ہو سکتا ہے یہ تو بہت مشکل بات ہے پس ایسے ہی زمانہ میں نبی کی بعثت ہوتی ہے۔ جبکہ لوگوں کے حوصلے ادنی ہو جاتے ہیں۔ نبی آکران کے حوصلے بڑھاتا اور ان میں بڑی بڑی طاقتیں بھر دیتا ہے۔ حتی کہ آنحضرت الله جب آئے تو آپ کو انتہائی درجہ پر انسانی حوصلہ کو پہنچانے کا شرف دیا گیا اور کہا گیا قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران : (۳۲) اے لوگو! تم تو یہ اعتراض کرتے ہو کہ ایک انسان کس طرح رسول ہو سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے وہ کچھ سکھایا ہے کہ اگر تم میرے بتائے ہوئے احکام پر چلو گے تو خدا کے محبوب ہو جاؤ گے اور وہ تم سے پیار کرنے لگے گا۔ یہ تو انسان کی ترقی کا اعلیٰ درجہ ہے جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت ا کے ذریعہ سے دنیا کے سامنے پیش کیا لیکن جو نبی بھی آتا رہا ہے اس کا بڑا کام یہی رہا ہے کہ لوگوں کو دنائت سے بچائے۔ چنانچہ انبیاء اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بہت سے ذرا ذرائع اختیار کرتے رہے۔ جن میں سے ایک زکوۃ و صدقہ کی تعلیم بھی ہے۔ اسلام نے تو یہاں تک احتیاط کی ہے کہ زکوٰۃ لي يحبكم ہیں