انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 611

انوار العلوم جلد ۳۰ 411 زنده ذهب اپنے رسولوں اور نبیوں ہی کی مدد نہیں کرتے بلکہ جو ان کے ماننے والے ہوتے ہیں ان کی بھی مدد کرتے ہیں۔ اس لئے اب ان کی جماعت موجود ہے جن سے خدا تعالیٰ اپنی محبت اور پیار کا ثبوت دے رہا ہے۔ اور اپنی مدد اور نصرت سے ہی ہر میدان میں کامیاب کرتا اور اس کے مخالفوں کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔ حضرت مرزا صاحب کے لئے خدا تعالیٰ نے ایسے ایسے نشانات دکھلائے کہ جن کو دیکھ کر اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا بہت بڑا ثبوت ملتا ہے۔ جب آپ نے دعوی کیا تو ساری دنیا نے مل کر آپ کی مخالفت میں زور لگایا ۔ مگر آپ کے مخالفین ہر کوشش اور سعی میں ناکام اور نامراد رہے۔ اور آپ کے ساتھ نصرت اور تائید رہی۔ یہ ثبوت تھا اس بات کا کہ خدا - ت کا کہ خدا کے پیارے اور محبوب بندوں کو خدا سے نصرت آتی ہے۔ دوستی اور محبت اس کو کہتے ہیں کہ دونوں میں ایسا تعلق ہو کہ ایک دوسرے کی بات مانیں۔ پس زندہ مذہب کا یہ بھی ایک ثبوت ہے کہ اس مذہب میں ایسے لوگ موجود ہوں جن کی باتیں خدا تعالی مانے اور ایسے حالات میں مانے جب کہ ظاہری اسباب بالکل مخالف ہوں۔ اور یہ اس طرح کہ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہوں اور یہ بات اسلام کے پیروان کو نصیب ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالی دوسرے مذاہب کے پیروان کی دعا ئیں نہیں سنتا۔ خدا تعالیٰ تنگ دل نہیں کہ وہ سوائے ایک قوم کے باقی سب کی دعاؤں کو رد کر دے۔ اسلام خدا تعالیٰ کے متعلق بہت وسعت کی تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَإِذَا سَالَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقره: ۱۸۷) کہ جب میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو ان کو کہہ دو کہ میں قریب ہی ہوں۔ اور پکارنے والے کی دعاؤں کو سنتا ہوں پکارنے والے " کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ صرف مسلمانوں ہی کی دعائیں نہیں سنتا بلکہ خواہ کوئی ہندو ہو یا عیسائی، سکھ ہو یا آریہ کوئی ہو جب وہ خدا کے حضور گڑ گڑائے اور اپنی حالت زار پیش کر کے مدد چاہے تو خدا اس کی سنتا اور قبول کرتا ہے۔ پس یہاں دعا کے قبول ہونے کے متعلق بیان کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ مسلمانوں کے سوا اور کسی انسان کی دعا سنتا ہی نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ خدا تعالیٰ ایک بچے مسلمان کی دعا ئیں دوسرے لوگوں کی نسبت بہت زیادہ سنتا ہے۔ جس طرح کہ ایک سخی انسان کو اپنی سخاوت سے سب کو نفع پہنچاتا ہے مگر اس کے دوست اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ