انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 606

انوار العلوم جلد - ۳ 4۔4 زنده نه جب کہا مجھے تو نہیں آتا۔ اس پر پٹھان نے یہ کہہ کر کہ تمہاری قسمت ہی خراب ہے کلمہ مجھے بھی نہیں آتا چھوڑ دیا اور وہ چلا گیا۔ تو اس علاقہ کے لوگ اس قسم کے ہیں۔ مگر خدا تعالیٰ نے انہیں کو جو قتل و غارت ، لڑائی و جھگڑے شرارت وفتنہ میں لگے رہتے تھے لاک رہتے تھے لاکر حضرت مرزا صاحب کے آگے ڈال دیا۔ اور صرف ڈال ہی نہیں دیا ۔ بلکہ ان کی بہت بڑی اصلاح بھی ہو گئی۔ کیونکہ حضرت مرزا صاحب کوئی اس قسم کے پیر نہ تھے جیسے آج کل کے مسلمانوں کے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہماری بیعت کر کے ہمارا نذرانہ ادا کر دو پھر جو تمہارا جی چاہے کرتے پھرو سب کچھ تمہیں معاف ہے۔ چنانچہ حضرت مولوی نور الدین صاحب جو حضرت مرزا صاحب کے پہلے خلیفہ تھے۔ ان کے ہاں ان کی بہن آئی تو انہوں نے کہا کہ تم اپنے پیر سے جاکر پوچھنا کہ تمہاری بیعت کرنے سے کیا فائدہ ہے۔ جب اس نے واپس جاکر پیر صاحب سے یہ سوال کیا تو پہلے تو انہوں نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے نور الدین نے تمہیں یہ سوال سکھایا ہے اس لئے اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر بتا دیتا ہوں ہماری بیعت کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ بیعت کے بعد جو تمہاری مرضی ہو وہ کرو۔ قیامت کے دن ہم جب کہہ دیں گے کہ یہ ہمارے مرید ہیں۔ تو پھر کوئی نہیں پوچھے گا اور تم سیدھی جنت میں چلی جاؤ گی۔ تو اس قسم کی بیعتیں ہیں جو مسلمانوں کے پیر کراتے ہیں۔ مگر حضرت مرزا صاحب کی بیعت اس میں شرط تھی کہ ہر قسم کی بدکاری، شرارت، حسد کینہ ، بغض، چوری وغیرہ ایسی نہ تھی۔ اس افعال بد گا۔ قتل و بد سے بچنا ہو گا۔ قرآن کریم کے کسی چھوٹے سے چھوٹے حکم کو نہیں توڑنا ہو گا۔ غارت لوٹ مار وغیرہ برائیوں کو چھوڑنا ہو گا۔ خدا کی عبادت سچے دل اور کامل فرمانبرداری سے کرنی ہوگی۔ خدا کی مخلوق کے ساتھ محبت اور الفت سے پیش آنا ہو گا۔ غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کرنی ہوگی۔ اپنی زبان یا ہاتھ سے خدا کی کسی مخلوق کو تکلیف نہیں پہنچانی ہوگی۔ ہر برے فعل سے بچنے اور اچھے عمل کرنے کے لئے تیار رہنا ہو گا۔ یہ وہ شرائط ہیں جو حضرت مرزا صاحب اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے والے سے پوری کراتے تھے۔ لیکن باوجود ان کے موجودہ زمانہ کے لحاظ سے اس قدر مشکل اور کٹھن ہونے کے جب ان لوگوں نے جنہیں وحشی اور جاہل سمجھا جاتا تھا آپ کی بیعت کی تو انسان بن گئے۔ خود قرآن کریم پڑھا اور دوسروں کو سکھایا۔ کیا یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا معمولی نشان ہے۔ پھر ہر علاقہ اور ہر ملک سے لوگ کھینچ کھینچ کر آپ کے پاس لائے گئے اور اس کثرت کے ساتھ لائے گئے کہ جن