انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 589

انوار العلوم جلد - ۳ بسم الله الرحمن الرحیم ۵۸۹ زنده نذهب محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت (حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی وہ تقریر جو حضور نے ۳۰۔ ستمبر ۱۹۱۷ء کو جماعت احمدیہ شملہ کے سالانہ جلسہ پر بمقام میسانک ہال فرمائی۔) يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ تُكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءُ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَ هُدًى وَ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ (يونس : ٥٨) مذہب ایک ایسی معزز و مکرم شے ہے کہ اس کے خدا کے متعلق کلام کرنے کا طریق ذکر میں انسان کو بہ محتاط ہونا چاہئے۔ اگر کوئی خدا ہے اور خدا کے ہونے کے بعد کسی مذہب کی ضرورت ہے اور وہ لوگ جو عقل و سمجھ رکھتے ہیں اور انکو اس بات کے تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ خدا ہے اور ضرور ہے تو پھر اس بات کے ماننے میں بھی کسی کو عذر نہیں ہو سکتا خواہ وہ عیسائی ہو یا موسائی سناتنی ہو یا آریہ ، مسلمان ہو یا سکھ کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق جو کلام ہونا چاہئے اس میں سنجیدگی ، خوف ادب کو خاص طور پر مد نظر رکھنا چاہئے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ معمولی سے معمولی انسانوں کے سامنے جو رتبہ میں ان سے کسی قدر ہی بڑے ہوتے ہیں کلام کرتے وقت ادب اور تہذیب کو مد نظر رکھتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ایک ضلع کا افسر ہوتا ہے اس کے پاس جو لوگ جاتے ہیں تو کلام کرنے میں خاص احتیاط اور سنجیدگی پیدا کرتے ہیں اور اس کے بالا افسروں کے سامنے تو اور بھی متانت سے گفتگو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ گورنمنٹ کے کسی چھوٹے سے چھوٹے