انوارالعلوم (جلد 3) — Page 34
انوار العلوم جلد ۳۰ ۳ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب لے کر اس بات کی تاکید کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ اس کی فرمانبرداری کرو۔ اگر مسیح موعود صادق ہے تو اس کے ساتھ ہونے اور اس کی جماعت میں علی الاعلان شامل ہونے کی ضرورت ہے اور قرآن کریم کا حکم ہے اور اگر کاذب ہے۔ نعوذ باللہ ۔ تو پھر اس سوال کی ہی ضرورت نہیں پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نسل انسان کو فرماتا ہے فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّى هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ، وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِايَتِنَا أُولَئِكَ اَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ - ن - ( البقره : ۴۰:۳۹) ۴۰:۳۹) ۔ پس جس کا نام مہدی رکھا گیا ہے وہ جب دنیا میں آئے تو اس کے ساتھ ہونا اور اس کی جماعت میں داخل ہونا تو ایک حکم الہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی اتباع کرنا تو مؤمن کا فرض اولین ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ - ( ال عمران : (11) تم بہتر امت ہو جو لوگوں کے نفع کے لئے نکالی گئی ہے تم لوگ سب نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور سب بری باتوں سے لوگوں کو روکتے ہو۔ اور اللہ تعالی پر ایمان لاتے ہو۔ اس آیت میں اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کو دوسری امتوں پر فضیلت ہی اس لئے دی گئی ہے کہ ان کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو لوگوں کے نفع کے لئے وقف کر دیں اور حق باتیں لوگوں کو پہنچاتے رہیں اور بری باتوں سے روکتے رہیں۔ پس جبکہ مسلمان کا فرض دوسروں کو حق پہنچانا ہے تو اپنا مذہب پوشیدہ رکھنا اسے کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور اور ہدایت نازل ہو گئی تو ہر ایک مؤمن کا فرض ہے کہ وہ اس کو شائع کرے اور لوگوں کو اس کی طرف بلائے اور یہ مسلم کا پہلا فرض ہے اور ایک دوسری جگہ اللہ تعالی تبلیغ کرنے والے لوگوں کو کہتا ہے کہ أولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (ال عمران : (۱۰۵) یعنی جب تک لوگوں کو دعوت حق دینے کا مادہ مسلمانوں میں رہے گا اس وقت تک مسلمان کامیاب ہوں گے۔ پس ان تمام آیات کے ہوتے حکم صرف ہوئے ایمان کا پوشیدہ رکھنا جائز نہیں۔ اور ان آیات میں ہرگز کہیں نہیں لکھا کہ یہ فلاں فلاں نبی کے لئے ہے یا یہ کہ فلاں فلاں ہدایت کے لئے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں یہود کی نسبت آتا ہے کہ ا ك الَّذِينَ آتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَعْرِفُونَهُ ب يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ - (البقره : ۱۴۷) اہل کتاب رسول اللہ اللہ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو۔ جس سے معلوم ہوتا ہوتا ہے کہ دل سے تو وہ آپ کے مومن تھے لیکن اس کا اظہار نہیں