انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 576

انوار العلوم جلد - ۳ پچاس ہزار ساٹھ ہزار اکتالیس ہزار کیوٹو بارہ ہزار ۵۷۶ خدا کے قتری نشان بن ۶۱۷۵۵ کیلیپیریا ۶۱۷۸۳ بارہ ہزار پچیس ہزار منڈورا ۱۷۹۷ء پیرو اور ایکواڈور ١٨٧٨ء کیراکس تین ہزار فیلا ١٨٨٠ء براہین احمدیہ کی اشاعت کے بعد کا زمانہ دو ہزار اسیا ۱۸۸۳ء ڈیڑھ ہزار سان فرانسسکو ١٩٠٦ء پتیس ہزار کیرا کیٹوا ۱۸۸۳ء اڑھائی ہزار ویلیپیریز و چلی ۱۹۰۶ چھیں ہزار جاپان ١٨٩٦ء ایک ہزار جمیکا 190ء میں ہزار مانٹ پیلی ١٩٠٢ء تین لاکھ مینیا اور کیلیپیر یا ۱۹۰۸ء پندرہ ہزار هندوستان ۱۹۰۵ء اس گفتی کو دیکھو کہ پہلے دو سو نوے سال میں تین لاکھ تیرہ ہزار اموات زلزلوں سے ہوئیں ہیں اور گیارہ زلزلے آئے ہیں۔ اور ان چھبیس سال میں چار لاکھ تین ہزار اموات ہوئی ہیں۔ اور دس زلزلے آئے ہیں۔ گویا ایک لاکھ کے قریب ان سے زیادہ (یعنی سخت زلزلے) اور اس کے بعد اٹلی کا زلزلہ جو ۱۹۱۴ء میں آیا ہے۔ اور ٹرکی کا زلزلہ شامل کیا جائے۔ تو قریباً ایک لاکھ اموات اور دو زلزلے اور زیادہ ہو جاتے ہیں۔ پس غور کرو کہ تین سو سال میں جس قدر زلازل دنیا میں آئے تھے انکی اموات کی تعداد سے حضرت مسیح موعود کے الہام کے بعد جو زلازل آئے ہیں ان میں اموات کی تعداد زیادہ ہے۔ اور قلیل عرصہ میں بہت سے زلزلے آئے ہیں۔ پھر دیکھو کہ کس طرح حضرت کے اس الہام کے بعد جس خاص طور پر زلزلے آنے اور قریب آنے کا ذکر تھا متواتر چار سال یعنی پانچ چھ سات اور آٹھ میں زلزلے آئے ہیں۔ اور ان چار سال میں اموات کی جو تعداد ہے وہ بھی اس تین سو سال کی اموات سے زیادہ ہے۔ یعنی تین سو سال میں تین لاکھ تیرہ ہزار اموات ہوتی ہیں۔ اور ان چار سال کے عرصہ میں حضرت صاحب کے دعوے سے پہلے تین سو سال کے زلزلوں کی اموات سے سات ہزار آدمی زیادہ مرے ہیں۔ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ - آخر میں میں تمام طالبان حق سے عرض کرتا ہوں کہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں پر رحم کرو۔ اور اس دریدہ دہنی سے باز آؤ جو خدا تعالیٰ کے مرسل کے مقابلہ میں کی جاتی ہے۔ خوب یاد