انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 570

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۷۰ خدا کے قبری نشان ९९ زندگی میں آئے گا۔ " صفحہ ۹۰ سطر ۹- (روحانی خزائن جلد ۱ ۲ ۲۵۱۰۲) لیکن یہ حوالہ جو اس نے نقل کیا ہے آئندہ پیش گوئی کے متعلق ہے ہی نہیں بلکہ سائل کے اس سوال کے جواب میں یہ تحریر لکھی گئی ہے کہ ۴۔ اپریل کا زلزلہ آپ کی پیش گوئی کے مطابق کس طرح کہلا سکتا ہے۔ چنانچہ سائل کا اگلا فقرہ خود اس امر کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے ” جناب مقدس مرزا صاحب نے دوبارہ زلزلہ آنے کی خبر دی ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ مجھے علم نہیں دیا گیا کہ وہ کوئی زلزلہ ہے یا کوئی اور شدید آفت ہے اور مجھے علم نہیں دیا گیا کہ ایسا حادثہ کب ہو گا۔" صفحہ ۹۱ یہ فقرہ صاف بتا رہا ہے کہ سائل کا پہلا سوال پہلے زلزلہ کے متعلق تھا جو پورا ہو چکا۔ اور دوسرا سوال آئندہ کی پیش گوئی کے متعلق تھا۔ اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والی خبر کے متعلق اس وقت کہہ دیا گیا تھا کہ اس کی مراد زلزلہ کے سوا اور کوئی آفت شدیدہ بھی ہو سکتی ہے۔ اور جو جواب حضرت مسیح موعود نے سائل کو دیا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ زلزلہ ہی آئے بلکہ ممکن ہے کہ کوئی اور آفت شدیدہ ہو۔ چنانچہ جو حوالجات کا تب اشتہار دیتا ہے وہ بھی بتا رہے ہیں کہ آپ نے اس بات کا اظہار کر دیا تھا کہ بعید نہیں کہ زلزلہ سے مراد کوئی اور آفت ہو۔ چنانچہ وہ ایک حوالہ براہین احمدیہ سے لکھتا ہے۔ "ہم نے کب اور کس وقت اپنی پیشگوئیوں کے الفاظ کے یعنی کئے ہیں کہ ان سے مراد زلزلہ نہیں ہے بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ اکثر اور اغلب طور پر زلزلہ کے لفظ سے مراد زلزلہ ہی ہے۔“ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو یہ خیال ضرور تھا کہ زلزلہ سے مراد کوئی اور آفت بھی ہو سکتی ہے چنانچہ اس بات کی تائید میں ہم کچھ اور حوالہ جات بھی نقل کرتے ہیں ضمیمہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۹۶ پر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ " تعجب کہ ہم بار بار کے جاتے ہیں کہ ظن غالب کے طور پر زلزلہ سے مراد ہماری پیش گوئیوں میں زلزلہ ہی ہے اور اگر وہ نہ ہو تو ایسی خارق عادت آفت مراد ہے جو زلزلہ سے شدید مناسبت رکھتی ہو اور پورے طور پر زلزلہ کا رنگ اس کے اندر موجود ہو۔ پھر بھی معترض صاحب کی اس قدر الفاظ سے تسلی نہیں ہوتی۔" اسی طرح براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۲۰ پر فرماتے ہیں "ممکن ہے یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو حاشیه اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے ۔ " (روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۵) ان عبارتوں کے پڑھنے سے ہر ایک صاحب دانش معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آنے والی آفت کو