انوارالعلوم (جلد 3) — Page 543
انوار العلوم جلد - ۳ ۵۴۳ عید الاضحی پر مسلمانوں کا فرض اعوذ بالله من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحیم محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر عید الاضحی پر مسلمانوں کا فرض عید الاضحی قریب آرہی ہے اور ہر مسلمان کو اس بچی قربانی کی طرف متوجہ کر رہی ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنا دیتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے فنا ہوتے ہیں وہ دائی بقا حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ آج سے چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے اکلوتے بیٹے کو خدا تعالی کے لئے ذبح کرنا چاہا اور اپنے لئے ہمیشہ کی فنا کو قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیشہ کے لئے آپ کے نام کو بلند کر دیا۔ کیا آج مختلف ممالک کے لوگوں کا اس یاد کو تازہ کرنا اور اس مثال کو سامنے رکھ کر اپنے وجود کو قربانی کے لئے پیش کرنا اس امر کا ثبوت نہیں کہ خدا تعالیٰ کی خاطر فنا ہونے والے ہمیشہ کی زندگی پاتے ہیں۔ پس عید الاضحیٰ کے موقعہ سے سبق حاصل کر کے مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے آپ کو بچی قربانی کے لئے تیار کریں جو خدا کی رضا کے حصول کے لئے اپنے آپ کو فنا کر دینے کا نام ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔ لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَالكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ الج : ۳۸) یعنی قربانیوں کا گوشت اور خون اللہ تعالی کے حضور میں ہرگز قبول نہ ہو گا بلکہ جس نیک نیت اور نیک ارادے سے تم کام کرتے ہو وہ اس کے حضور میں قبول ہو گا۔ پس چاہئے کہ مسلمان عید پر ظاہری قربانی پر زور دینے کی بجائے باطنی قربانی پر زور دیں تاکہ اسلام کو فائدہ ہو اور خدا تعالیٰ کا نور دنیا میں پھیلے۔ اے دوستو ! اگر ساری دنیا کے بیل اور گائے ہم بر سر میدان ذبح کر ڈالیں تو سوائے ایک ظاہری علامت کے اس کا اور کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ لیکن اگر ہم میں سے ایک شخص ابراہیم علیہ السلام والی قربانی کے لئے اس عید کے دن تیار ہو جائے تو وہ