انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 504

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۰۴ ذکر الهی میں یا خوشی ہوگی یا رنج پس اگر خوشی ہو تو الحمد لله رب العلمین کے اور اگر ریح ہو تو اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَا مَا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِكُمْ اور انحضرت نے ہر حالت کے متعلق ذکر مقرر فرما دیتے ہیں اس لئے ان کے کرنے سے انسان ہر حالت میں خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔ مثلاً ایک شخص جو دفتر میں بیٹھا کام کر رہا ہو وہ اگر اپنے متعلق کوئی خوشخبری سنے تو الحمد للہ کے۔ اگر چلتے ہوئے اسے خوشی کی بات معلوم ہو تو بھی الحمد للہ کے ۔ اگر لیٹے ہوئے خوشی کی بات سنے تو اسی حالت میں الحمد للہ کیے۔ اس طرح خود بخود قِيَا مَا وَ قُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِكُمُ الله تعالیٰ کا ذکر ہوتا رہے گا۔ پھر رسول کریم فرماتے ہیں کہ أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِله إِلا الله ( ترمذى كتاب الدعوات باب ماجاء ان دعوة المسلم مستجابة ) جابر سے ترندی میں روایت ہے کہ سب سے بہتر اور افضل ذکر یہ ہے کہ اس بات کا اقرار کیا جائے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ باقی اذکار کی بھی مختلف فضیلتیں ہیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ کی نسبت فرمایا ہے۔ كَلِمَتَانِ نَخَفِيفَتَانِ عَلَى النِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ جَهَنَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ ( بخاری کتاب التوحید باب قول الله تعالى و نضع الموازين القسط و ترتدى ابواب الدعوات باب ماجاء في فضل التسبيح والتكبير۔۔۔۔۔۔ کہ دو کلمے ایسے ہیں کہ جو زبان سے کہنے میں چھوٹے ہیں مگر جب قیامت کے دن وزن کئے جائیں گے تو ان کا اتنا بوجھ ہوگا کہ ان کی وجہ سے نیک اعمال کا پلڑا بہت بھاری ہو جائے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کو بہت ہی یہ بھی بہت اعلیٰ درجہ کا ذکر ہے۔ حتی کہ ایک ایک دفعہ جب حضرت مسیح مسیح۔ موعود بیماری کے سخت دورہ میں تہجد کے لئے اٹھے اور غش کھا کر گر گئے اور نماز نہ پڑھ سکے تو الہام ہوا کہ ایسی حالت میں تہجد کی بجائے لیٹے لیٹے یہی پڑھ لیا کرو۔ تو یہ بھی بہت فضیلت رکھنے والا ذکر ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم ا کثرت سے اس کو پڑھتے تھے۔ پسند ہیں۔ ان رو ذکروں کو رسول کریم ﷺ نے افضل بتایا ہے۔ مگر ایک اور ذکر بھی افضل ہے گو اس کے متعلق رسول کریم ﷺ کا کوئی ارشاد محفوظ نہیں۔ مگر عقل بتاتی ہے کہ وہ بھی بہت اعلیٰ درجہ کا ہے اور وہ قرآن کریم کی آیات کا ذکر ہے۔ اگر ان کو ذکر کے طور پر پڑھا جائے تو دو ہرا ثواب حاصل ہو گا۔ ایک تلاوت کا اور دوسرے ذکر کا۔ یہ تو میں نے ذکر بتلائے ہیں۔ اب ان کے متعلق احتیاطیں بتاتا ہوں۔