انوارالعلوم (جلد 3) — Page 488
انوار العلوم جلد ۳۰ یہ کہ ذکر الہی جہاد کی ترغیب دیتا ہے۔ ۳۸۸ ذکرائی یہ ہے ذکر الہی کی اہمیت اور ضرورت۔ لیکن ذکر ذکر الہی کی طرف توجہ کی کمی کی وجہ الٹی کے بعض حصے ایسے ہیں کہ جن کی طرف ہو 6 ہماری جماعت کی توجہ نہیں اور اگر ہے تو بہت کم ہے۔ میری فطرت میں خدا تعالٰی نے بچپن سے ہی سوچنے اور غور کرنے کا مادہ رکھا ہے۔ میں اس وقت سے کہ میں نے ہوش سنبھالا ہے اس بات کو سوچتا رہا ہوں اور اب بھی اس کی فکر ہے کہ ہماری جماعت میں ذکر اللہ کی جو کمی ہے اسے دور کیا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے دعا پر بہت بڑا زور دیا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری جماعت دعا سے بہت کام لیتی ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود نے ذکر الہی پر بھی بہت زور دیا ہے۔ لیکن اس کی طرف جیسی کہ توجہ کرنی چاہئے اس وقت تک ایسی نہیں کی گئی۔ ایک بہت بڑی وجہ تو یہ ہے کہ انگریزی تعلیم نے کچھ خیالات بدل دیتے ہیں اور یوروپین تعلیم کے اثر سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ یونہی خدا کا نام لینے سے کیا فائدہ حاصل سکتا ہے۔ اگر کوئی الگ بیٹھ کر کہتا رہے کہ لا الہ الا اللہ یا خدا قدوس ہے ، علیم ہے ، خبیر ہے“ قادر ہے خالق ہے تو اس ہے، تو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ کچھ نہیں اس لئے اس طرح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری جماعت کے لوگ بھی چونکہ انگریزی تعلیم سے شغل رکھتے ہیں اس لئے وہ بھی اس اثر کے نیچے آگئے ہیں۔ دوسرے ہماری جماعت میں وہ لوگ ہیں جو زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ پہلے ہی نہ جانتے تھے کہ ذکر الہی کیا چیز ہے اور اس کا کیا فائدہ ہے اس لئے جب تک ان سب کو اچھی طرح نہ بتلایا جائے اور عمدہ طریق سے نہ سمجھا دیا جائے اس وقت تک اس طرف توجہ نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں ذکر اللہ کم ہے۔ نماز بھی ذکر اللہ ہی ہے۔ جس کی ہماری جماعت میں خدا کے فضل سے پوری پوری پابندی کی جاتی ہے۔ مگر اس کے سوا اور بھی ذکر اللہ ہیں جن کا ہونا ضروری اور لازمی ہے۔ ان کے متعلق گو میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ ہماری جماعت میں ہیں ہی نہیں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ کم ہیں۔ اور بعض لوگ ان پر عمل نہیں کرتے اور یہ بھی بہت بڑا نقص ہے۔ دیکھو اگر کسی کی شکل خوبصورت ہو مگر اس کی آنکھ یا کان یا ناک خراب ہو تو کیا اسے خوبصورت کہا جائے گا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اسے سب لوگ بدصورت ہی کہیں گے ۔ اسی طرح اگر ہماری جماعت کے بعض لوگ ذکر اللہ کے بعض طریق کو عمل میں نہیں لاتے تو ان کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ ایک شخص نے بڑا قیمتی